کرفیو میں نرمی، یوم خریداری منایا گیا

کشمیر
،تصویر کا کیپشنیکم جولائی سے آٹھ اگست تک صرف چار مرتبہ معمول کی زندگی بحال ہوپائی ہے۔

بھارتی زیرانتظام کشمیر میں پندرہ روزہ کرفیو اور مسلسل ہڑتال کے بعد اتوار کو معمول کی زندگی بحال ہوگئی ہے۔

سنیچر کو ہی علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے لوگوں سے اتوار کے روز معمول کا کام کاج کرنے اور خریداری کرنے کی اپیل کی تھی۔

حریت کانفرنس کے ایک بیان میں اتوار کو ’یوم خریداری‘ قرار دیا گیا تھا۔

دو ماہ سے جاری علیحدگی پسندوں کی ’کشمیر چھوڑو‘ تحریک کے دوران اکثر اوقات علیحدگی پسند ہی ’نارملسی‘ کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کال کے پیش نظر حکام نے سرینگر اور دوسرے قصبوں سے کرفیو ہٹا لیا ہے۔ تاہم جنوبی ضلع پلوامہ کے بعض علاقوں میں حالیہ ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال کی گئی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یکم جولائی سے آٹھ اگست تک صرف چار مرتبہ معمول کی زندگی بحال ہو پائی ہے کیونکہ باقی ایام کے دوران علیحدگی پسندوں کی طرف سے دھرنوں، احتجاجی مظاہروں اور اجتماعات کی کال دی جاتی ہے لہٰذا ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے حکومت کرفیو کا اعلان کرتی ہے۔

اتوار کی صبح سرینگر اور دوسرے قصبوں میں خریداری کے لیے لوگوں کی بھاری تعداد گھروں سے باہر آئی جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک جام بھی ہوا۔

اتوار کو عام تعطیل کے باوجود سکولوں میں بھی درس و تدریس کا عمل جاری رہا۔ اس دوران حکومت نے تعلیم کو ضروری خدمات کے زمرے میں لایا ہے اور اساتذہ و سکول منتظمین سے کہا ہے کہ وہ ہڑتال اور کرفیو کے دوران بھی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

تاہم علی گیلانی نے مزاحمتی پروگرام کا اعلان کرتے وقت والدین سے اپیل کی ہے وہ ہڑتال کےدوران بچوں کو گھروں میں پڑھانے کا بندوبست کریں۔

مزاحمتی پروگرام کے مطابق نو اگست سے پندرہ اگست تک دو دن کو چھوڑ کر مسلسل ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی گئی ہے۔

علیحدگی پسندوں کی طرف سے ہر ہفتے جاری ہونے والے مزاحمتی کیلنڈر پر لوگ پوری طرح عمل کرتے ہیں، لیکن اکثر حلقے کہتے ہیں کہ علیحدگی پسند زندگی کا پہییہ مکمل طور پر جام کرکے تحریک کو آگے نہیں لے جاسکتے۔

مقامی تاجر غلام قادر ڈگہ کہتے ہیں ’کھانے پینے کی چیزوں کی خریدوفروخت سے ہی زندگی نہیں چلے گی۔ ہر ہفتے ہم ایک دن کی نارملسی میں کیا کیا کام کرسکتے ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ سید علی گیلانی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران سنگ بازی سے گریز کریں۔

انہوں نے سرکاری عمارتوں کو نذآتش کرنے کی کاروائیوں کو بھی تحریکی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ تاہم انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ موجودہ تحریک طویل ہوسکتی ہے لہٰذا انہیں کئی طرح کے نقصانات برداشت کرنا ہونگے۔