’کابینہ میں اختلافات بری بات نہیں‘

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ نظریاتی اختلافات کے باوجود ان کی کابینہ جواہر لال نہرو کی قیادت والی پہلی کابینہ سے زیادہ ہم آہنگی سے کام کرتی ہے۔
دلی میں اخباروں کے مدیران سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف نظریات کا اظہار ’ضروری نہیں کہ بری بات ہی ہو‘ اور یہ کہ جب وزراء یا کانگریس پارٹی کے اعلی عہدیداران میں کسی مسئلہ پر اختلافات سامنے آتے ہیں تو وہ اس میں کوئی برائی نہیں دیکھتے کیونکہ جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
وزیر اعظم شاید اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کی کابینہ اخلافات کا شکار ہے اور کانگریس پارٹی اور حکومت کے درمیان بھی بہت سے معاملات پر اختلاف رائے ہے۔
کانگریس کے جنرل سیکرٹری دگ وجے سنگھ ماؤ نواز باغیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے وزیر داخلہ پی چدمبرم کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے اور کئی مرتبہ کھل کر اس کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ہندو دہشتگردی کو ’سیفرن ٹیرر‘ کہنے پر بھی کانگریس کے ترجمان جناردھن دیویدی نے مسٹر چدمبرم کو اسی ہفتے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ دہشتگردی کا کوئی رنگ ہیں ہوتا۔
کابینہ کے اندرونی اختلافات بھی وقتاً فوقتاً منظر عام پر آتے رہتے ہیں اور خاص طور پر وزارت ماحولیات اور زمینی نقل و حمل کی وزارت کے درمیان کئی مرتبہ محاذ آرائی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
من موہن سنگھ نے کہا کابینہ میں ’ایک حد تک ہم آہنگی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور ان کے نائب سردار پٹیل کے درمیان تقریباً روزانہ خطوں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ اندرا گاندھی اور مورارجی دیسائی کے درمیان بھی اختلافات تھے اور اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں ہی ’ینگ ٹرکس‘ کے نام سے منحرف نوجوان رہنماؤں کا ایک گروپ سرگرم تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اور پارٹی کے درمیان ہم اہنگی کی کوئی کمی نہیں ہے۔’میں اپنے ہر ساتھی سے خاموش رہنے کے لیے نہیں کہہ سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ ریٹائر ہونے کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں اور یہ اشارہ بھی دیا کہ پارلیمان کے آئندہ اجلاس سے قبل کابینہ میں رد بدل کی جاسکتی ہے۔’میں کابینہ کی اوسط عمر کم کرنا چاہتا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت صرف راہول گاندھی کی تاجپوشی کے انتظار میں ہے، تو انہوں نے ہنس کر بات ٹال دی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ماؤنوازوں کا مسئلہ، کشمیر کی صورتحال اور بابری مسجد کیس کا فیصلہ، جو اسی مہینے متوقع ہے، وہ اہم ترین معاملات ہیں جو ہندوستان کے مستقبل پر اثر انداز ہوں گے۔
نکسلیوں کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے لحاظ سے یہ بہت بڑا چیلنج ہے جس کا کوئی فوری حل ممکن نہیں ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر انہوں نے کا کہ وہ اسی ہفتے سکیورٹی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کا اجلاس طلب کر رہے ہیں جس میں صورتحال کا انتہائی باریکی سے جائزہ لیا جائے گا۔





















