منموہن سنگھ کا خطاب
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے پیر کو لمبے وقفے کے بعد ایک باقاعدہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا لیکن صحافیوں کو اگر اپنے سوالوں کے واضح جواب کی امید تھی تو انہیں اور انتظار کرنا ہوگا۔

من موہن سنگھ کم بولنے اور متنازعہ معاملات یا بیانات سے دور رہنے کے لیے مشہور ہیں اور ہندوستان میں پریس سے کھل کر شاذ و نادر ہی بات کرتے ہیں۔ پیر کی پریس کانفرنس میں بھی صحافیوں کو ضمنی سوالات نہیں پوچھنے دیے گئے۔
متحدہ ترقی پسند محاذ کے پہلے دور اقتدار میں بھی انہوں نے صرف ایک بڑی پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔ آج کی پریس کانفرنس یو پی اے کی حکومت کا ایک سال پورا ہونے کے موقع پر کی گئی تھی۔
اس سے پہلے وہ گزشتہ برس پارلیمانی انتخابات سے قبل، کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ہمراہ، پارٹی کے منشور کے اجرا کے وقت پریس سے رو برو ہوئے تھے۔
پریس کانفرنس میں ان سے حسب توقع مختفلف موضوعات پر سوال پوچھے گئے لیکن وہ زیادہ تر یا تو ٹال گئے یا انتہائی مختصر جواب دیے۔ اور زیادہ تر وہی باتیں دہرائیں جو وہ مختلف فورموں سے پہلے کہتے رہے ہیں۔
خارجہ پالیسی پر صرف پاکستان سے تات چیت کے حوالے سے سوالات ہوئے لیکن ان سوالات میں وہ شدت نہیں تھی جو شرم الشیخ اعلامیہ کے بعد دیکھنے کو ملی تھی۔
بنیادی طور پر ان سے یہ ہی پوچھا گیا کہ کیا وزارتی سطح پر بات چیت کا آغاز دوسرے الفاظ میں جامع مذاکرات کا آغاز ہے، اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرنے والے دوسرے وزرا اعظم کے ساتھ جو ہوا تھا، (دلی لاہور بس پر اٹل بہاری واجپئی کا سفر اور کارگل؟) وہ ان کے ساتھ نہیں ہوگا۔
جواب میں من موہن سنگھ نے اعتماد کا فقدان کم کرنے کی بات دہرائی اور کہا کہ کوشش کرنا ان کا فرض ہے، کامیابی کس حد تک ملتی ہے یہ وقت بتائے گا۔
ماؤنواز باغیوں کو انہوں نےہمیشہ کی طرح سب سے بڑا خطرہ بتایا لیکن وزیر داخلہ پی چدمبرم اور دوسرے پارٹی رہنماؤں کے درمیان حکمت عملی پر اختلافات کی خبروں کے بارے میں کچھ کہنے سےانکار کردیا: ’میرے لیے اس بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا۔۔۔یہ معاملات جب موقع ملے گا کابینہ میں زیر بحث آئیں گے۔۔۔ میرے پاس فی الحال مکمل معلومات نہیں ہے۔۔۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی لیے شاید پریس کانفرنس کی ہائی لائٹ کسی سنجیدہ موضوع کے مقابلے میں سونیا گاندھی اور ان کی اہلیہ کے بارے میں ایک سوال رہا۔
جواب میں منموہن سنگھ نے کہا: میں بہت خوش نصیب ہوں کہ مجھے سونیا گاندھی اور میری بیوی گرشرن کور سے مسلسل مشورہ ملتا رہتا ہے۔ دونوں مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں! اور میں دونوں کے مشورے کی قدر کرتا ہوں!
اور ہمیشہ کی طرح راہل گاندھی کی تاج پوشی کا بھی سوال آیا اور انہوں نے پھر وہی تاثر دیا جسے وہ زائل کرنے میں اب تک ناکام رہے ہیں اور وہ یہ کہ اس کرسی پر وہ صرف اس وقت تک بیٹھے ہیں جب تک راہل گاندھی وزیر اعظم بننے کے لیے تیار نہیں ہوجاتے۔
’مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ نوجوانوں کو یہ ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔ جب بھی پارٹی یہ فیصلہ کرے گی، میں خوشی سے یہ کرسی چھوڑ دیں گے۔‘
من موہن سنگھ کی حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں صحافیوں کے جو سوال تھے وہ تو بدستور برقرار ہیں لیکن راہل گاندھی کو یہ پیغام ضرور گیا ہوگا کہ ان کی امانت وزیر اعظم کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔






















