پاکستان میں ہمارا ہاتھ نہیں:انڈیا

انڈیا کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان میں دہشت گردی کو بڑھاوا نہیں دے رہا ہے اور وہاں ہونے والی پرتشدد سرگرمیوں کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہے۔
اتوار کو مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات کے آخری روز ممبئی میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پاکستان ہو یا کوئی اور ملک ہم دہشتگردی کو ایکسپورٹ کرنے کی تجارت نہیں کرتے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت پاکستان اور وہاں کی عوام اس بات سے بہت اچھی طرح واقف ہے کہ یہ سب ہم پر غلط الزام ہے۔‘
واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان نے اپنے صوبہ بلوچستان میں ہونے والے حملوں کے لیے انڈیا کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
گزشتہ برس ممبئی پر ہونے والے شدت پسند حملوں کے بارے میں وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ممبئی حملوں کے خطاواروں کو سزا دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعیداور جیش محمد جیسی تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
من موہن سنگھ نے اپنے تقریر میں کہا کہ پاکستان نے سفارتی اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے زبردست دباؤ کے بعد پہلی مرتبہ اس بات کو قبول کیا کہ ممبئی پر ہونے والے حملوں کی سازش ان کے ملک میں رچائی گئی تھی۔
ملک میں ماؤ نوازوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر وزیراعظم نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ’نکسلی سرگرمیاں ملک کی اندرونی سلامتی کے لیےخطرہ ہیں لیکن ہم ماؤ نوازوں کے برے ارادوں سے اچھے طرح واقف ہیں اور حکومت ان کی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے تیار ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ آخر ’نکسل واد‘ اتنی تیزی کے ساتھ کیوں پھیل رہا ہے لیکن انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ نکسلیوں کے خلاف فوج کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم نے ممبئی کے انفراسٹرکچر کو بڑھانے اور بجلی کی کمی کو پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مہاراشٹر کےکسانوں کو مزید قرضوں کی معافی کی سہولت اب نہیں دی جائے گی۔





















