امیر ملکوں کے لیے مائیگریشن کم

بی بی سی کے لیے تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی مندی کے سبب غریب ملکوں کی جانب سے امیر ملکوں کی طرف مائیگریشن یا نقل مکانی میں جو تیزی پائی جاتی تھی وہ اب سست پڑتی دکھائی دیتی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اس معاشی مندی سے سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے جنہوں نے کمانے کی غرض سے دوسرے ملک نقل مکانی کی ہے۔
لیکن اس جائزے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تارکین وطن کما کر اپنے خاندانوں کو ہر برس جو اربوں ڈالر بھیجتے آئے ہیں اس پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔
گزشتہ تیس برسوں سے مالدار ملکوں کی طرف مائیگریشن میں اضافہ دیکھا جاتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق سنہ انیس سو اسّی اور دو ہزار دس کے درمیان امیگریشن کے سبب آبادی پانچ سے دس فیصد یعنی دوگنا ہو گئی ہے۔

واشنگٹن کے ایک ادارے ’مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ‘ نے بی بی سی کے لیے جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق عالمی مندی سے تارکین وطن سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اور ان کی تیز تر ہوتی رفتار اب تقریباً رک سی گئی ہے۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ عام طور تارکین وطن نیم ہنر مند پیشوں جیسے تعمیرات وغیرہ سے وابستہ رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اقتصادی مندی کے اس دور میں یہی شبعے متاثر ہوئے ہیں۔
بعض ممالک میں تو تارکین وطن کی آمد میں ڈرامائی کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر سپین میں تو سنہ دو ہزار نو میں دو تہائی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری طرف آئرلینڈ اور یونان کا حال یہ تھا کہ پہلے یہ ممالک دوسرے ممالک کے لیبرز اپنے یہاں بلاتے تھے اور اب حال یہ ہے کہ وہ خود کام کے لیے دوسرے ممالک جانے پر مجبور ہیں۔
مائیگریشن میں کمی اور تارکین وطن کی کمائی میں کمی سے ان کے اپنے ملک اپنے پیسہ بھیجنے پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ظاہر ہے کہ جب اپنے والدین یا اولاد کی ضروریات کے لیے پیسہ بھیجنا ضروری ہو تو پھر چاہے مندی ہو یا نہ ہو راستہ تو نکالنا ہی پڑتا ہے۔





















