برطانیہ: امیگریشن ادارہ پر نکتہ چینی

ڈیمین گرین
،تصویر کا کیپشنامیگریشن کے وزیر ڈیمین گرین کا کہنا ہے کہ اس لاپراہوی کو روکنے کے لیے کارروائی کی جا چکی ہے

برطانیہ میں پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کرنےوالی امیگریشن نگران ایجنسی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے۔

یہ بات برٹش بارڈر ایجنسی کے متعلق تفتیش کرنے والی کمیٹی کے سربراہ جان وائن نے کہی ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ویزے کے اجرا کے لیے متعدد درخواستیں ایس تھیں جو منظور نہیں کرنی چاہیے تھیں، وہ منظور کر لی گئیں جبکہ جو منظور کی جانے چاہیے تھیں، انہیں مسترد کر دیا گیا ہے۔

امیگریشن کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کارروائی کی جا چکی ہے۔

جان وائن کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستانی شہریوں کو جاری ہونے والے سو ویزوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نومبر دو ہزار نو اور اس برس جنوری کے درمیان جن انچاس درخواستوں پر ویزوں کو منظوری ملی ان میں سے چھ ایسے تھیں جنہیں منظوری نہیں ملنی چاہیے تھی۔

اس طرح کے ایک معاملے میں ریفرنس خط میں سپیلنگ کی کئی غلطیاں تھیں جبکہ بینک سٹیٹمینٹ میں جو رقم دکھائی گئی تھی وہ بڑی رقم کہاں سے آئی اس کے بارے کچھ معلوم نہیں تھا۔

اس طرح کے چھ معاملات کو مزید تفتیش کے لیے حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ’برٹش بارڈر ایجنسی‘ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

جو لوگ برطاینہ جانا چاہتے ہیں ان میں پاکستانی شہریوں کی تیسری بڑی تعداد ہے۔ ویزا نظام کے تحت پہلے انہیں دو برس کام کرنے کی اجازت ملتی ہے پھر وہ مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

جان وائن کا کہنا ہے کہ ایجنسی کی طرف سے اب تک کی یہ سب سے ناکام کارکردگی ہے۔ انہوں نے ایجنسی پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا ’بعض معاملات میں تو یہ بات نا قابل فہم تھی کہ آخر اس درخواست پر ویزا کیوں جاری کیا گیا جبکہ انہیں بنیادوں پر کئی دوسرے افراد کو ویزا نہیں دیا گیا تھا۔‘

امیگریشن کے وزیر ڈیمین گرین نے اس رپورٹ پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے ’ اس سمت میں معیاری اقداما ت کو یقینی بنایا جائے گا۔‘