بہار: باون فیصد ووٹنگ

بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں باون فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس مرحلے میں بہار کے چھ اضلاع میں پینتالیس سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی۔
تشدد کے معمولی واقعات کے علاوہ اس مرحلے کے انتخابات پر امن رہے۔ جن چھ اضلاع میں پولنگ ہوئی وہ ہیں دربھنگا( دس سیٹیں) سیتھامڈھی( آٹھ سیٹیں)، سمستی پور( دس سیٹیں)، مظفرپور( آٹھ سیٹیں)، مشرقی چمپارن( آٹھ سیٹیں) اور شیوہر( ایک سیٹ)۔
بہار میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار روپا جھا نے بتایا ہے کہ نکسلیوں کے اثرو رسوخ والے علاقے سیتھامڈھی اور شیوہر میں ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ لیکن شہری علاقوں میں ووٹنگ سست رفتار رہی۔
سیتامڈھی کے رونی سعیدپور کے علاقے سے بیلٹ پیپر پھاڑنے کی خبریں ملی ہیں جس کی وجہ سے وہاں وقت پر ووٹنگ شروع نہیں ہو پائی۔
جو اہم رہنماء میدان میں ہیں ان میں راشٹریہ جنتا دل کے سینیئر رہنما عبدالباری صدیقی، جنتادل یونائیٹڈ کے بہار میں سیکرٹری وجے کمار چوہان اور جنتا دل یونائیٹڈ کے ہی رام ناتھ ٹھاکر۔
بہار اسبملی کی کل دو سو تینتالیس سیٹیں ہیں۔ پہلے دور میں تقریباً ایک کروڑ سات لاکھ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اوراس مرحلے کی سینتالیس سیٹوں کے لیے کل چھ سو اکتیس امیدوار میدان میں تھے۔
انتخابات میں اہم مقابلہ ریاست کے حکمراں این ڈی اے اتحاد، لالو پرساد کی آر جے ڈی اور رام ولاس پاسوان کے اتحاد اور کانگریس کےدرمیان ہے۔
نتیش کمار کی جماعت جنتا دل یو اور بھارتیہ جنتا پارٹی این ڈی اے اتحاد کا حصہ ہیں۔ کانگریس کسی بھی اتحاد میں شامل نہیں ہے جبکہ لالو پرساد نے رام ولاس پاسوان کی جماعت لوک جن شکتی سے اتحاد کیا ہے۔کانگریس کے امید وار تنہا سبھی جماعتوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















