لالو پرساد کو دوہرا جھٹکا

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
لالو پرساد یادو نے جب مئی سال دو ہزار نو کے پارلیمانی انتخابات کی مہم کےدوران کانگریس کی شکست پر ذرائع ابلاغ کے تجزیوں پر یقین کرتے ہوئے کانگریس سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا تو اس وقت ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی ثابت ہوگی ۔
کانگریس نہ صرف اقتدار میں آئی بلکہ وہ پہلے سے بہتر اور تقریباً اپنے زور پر اقتدار میں آگئی۔ لالو مرکز میں اپنا اتحادی اور اپنی ساری طاقت کھو بیٹھے۔
ان کی آخری امید بہار تھی لیکن انہیں اس بار کے انتخابات میں تاریخی شکست سے دو چار ہونا پڑا ہے۔
بیس برس قبل جب لالو بہار میں اقتدار میں آئے تھے تو انہوں نے ریاست کے پس ماندہ اور کمزور لوگوں کو طاقت اور آواز دی تھی۔ لیکن وہی آواز جب اپنی تمناؤں کا اظہار کرنے لگی اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگی تو لالو کے پاس اس کا حل نہیں تھا ۔
لالو نے بہار میں غریب، کمزور اور پسماندہ عوام کے لیے ایک انقلاب برپا کیا۔
لالو کی غلطی یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے رہے کہ اس انقلاب کی صورت دائمی ہے اورجس میں وہ ہمیشہ برقرا رہیں گے۔ جب کہ حقیقت یہ تھی ان کا کردار بس وہیں تک محدود تھا ان کی سیاست کا جو دائرہ تھا وہ محدود تھا۔
لالو بہار میں مسلسل تین بارا قتدار میں رہے اور اس عرصے میں بہار کے عوام ترقی کے لیے ترستے رہے۔ لالو ہر برس ترقیاتی پروگراموں کے لیے مرکز سے آنے والی ہزاروں کروڑ کی رقم سال کے آواخر مین دلی کو لوٹاتے رہے۔ ان کا کہنا تھا ’ بہار کے عوام کو سڑک اور کمپیوٹر کی ضرورت نہیں ہے۔‘
ریاست میں سڑکوں، سکولوں، بجلی اور ہسپتالوں کا نظام تباہ ہوتا گیا۔ لالو کے بہار میں اقتصادی سرگرمیان ختم ہوگئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سال دو ہزار پانچ میں نتیش کمار کی جیت بہار کے عوام کی تمناؤں اور تبدیلی و ترقی کی خواہشوں کی فتح تھی۔
نتیش کمار نے گشتہ پانچ برس میں نراحیت کا شکار ریاست میں قانون کی بالادستی اور ریاست کی عملداری قائم کی ہے۔ خواتین کی بہبود اور انہیں اقتصادی طورپر مضبوط بنانے کےغیر معمولی اقدامات کیے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو ریاست میں ایک عوامی تحریک کی شکل دی۔
صرف گزشتہ برس ریاست میں پہلی بار ڈھائی ہزار کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ نتیش کے اقتدار میں ترقیاتی پروگراموں پر خرج کی جانے والی سالانہ رقم اب دو ہزار کروڑ سے بڑھ کر سولہ ہزار کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ بہار گزشتہ پانچ برس کے دوران گیارہ فی صد کی شرح سے اقتصادی ترقی کر رہا ہے۔
اسی لیے جب نتیش نے اکتوبر نومبر کے اسمبلی انتخابات میں قدم رکھا تو انہوں نے ریاست کی روایتی ذات پات کی بنیاد پر نہیں اپنی حکومت کی کارکردگی اور ریاست کی ترقی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگا۔ انہیں دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت سے فتح حاصل ہوئی ہے۔یہ ان کی عوامی مقبولیت کا ثبوت ہے۔
ریاست کے ایک سرکردہ دانشور اور تجزیہ کارسیبل داس گپتا کہتے ہیں ’نتیش نے سڑک، امن و قانون ، توانائی اور صحت کے غیر موجود ڈھانچے کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔‘
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما روی شنکر پرساد نے بہار کی جیت کو مستقبل کی فتح قرار دیا ہے۔ ’یہ بھارت کی سیاست میں ایک نیا اور مثبت اشارہ ہے۔ اس سے مرکز میں کانگریس کمزور ہو گی۔‘
بہار کے اسمبلی انتخابات میں شکست فاش کے بعد لالو کا سیاسی مسقبل اب وقت کے بھنور میں ہے ۔ ریاست میں وہ مزید پانچ برس کے لیے اقتدار سے باہر ہیں اور مرکز میں وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں۔ فی الحال لالو کا سیاسی مستقبل ایک خلا میں معلق ہے اورلالو کو زمین پر آنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ وہ اسی انقلاب کے شکار ہوئے ہیں جس کے وہ وہ خود معمار تھے۔




















