ٹو جی سپیکٹرم میں شاہد بلوا کا ریمانڈ

شاہد بلوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشاہد بلوا کو گرفتار کرکے دلی لایا جا رہا ہے

بھارت میں مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ممبئی کی ریالٹی فرم کےگروپ مینجنگ ڈائریکٹر شاہد عثمان بلوا کو دو روز کے ٹرانزٹ ریمانڈ میں بھیج دیا ہے۔

سی بی آئی کی ٹیم عدالت سے ہی بلوا کو لے کر دہلی کے لیے روانہ ہوگئی۔ انہیں منگل کو رات گئے باندرہ میں واقع ان کی رہائش گاہ سےگرفتار کیا گیا تھا۔

سی بی آئی کے کاؤنسل نے عدالت سے بلوا کے تین روزہ ریمانڈ کا مطالبہ کیا تھا۔ کاؤنسل نے عدالت کو بتایا کہ بلوا نے نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مجرمانہ سازش کی تھی۔

انہوں نے بہت ہی کم فیس پر لائسنز حاصل کیا اور پھر اسے ایک غیر ملکی کمپنی کو زیادہ منافع کے ساتھ فروخت کر دیا جس کی وجہ سے ملک کے خزانے کو دو سو بیس ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے۔

کاؤنسل نے عدالت کو بتایا کہ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت کے خصوصی جج کی جانب سے بلوا کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے ہیں۔

شاہد بلوا کے دفاعی وکیل ستیش مانے شندے نے اپنے موکل کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی سب سے پہلے لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک تھی۔ سن دو ہزار تین میں ہمیں لائسنس ملا۔ ایڈوکیٹ شندے نے جرح کرتے ہوئے کہا کہ ان پر عائد تمام الزامات غلط ہیں اور اس گھپلے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

شندے نے اپنے موکل کے دفاع میں مزید کہا کہ ان کی سوان ٹیلی کوم کمپنی نے تجارتی وجوہات کی بناء پر متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی کو اپنے شیئیرز فروخت کیے تھے اور انہیں ایسا کرنے کا پورا حق حاصل تھا کیونکہ کمپنی میں ان کا زیادہ حصہ ہے۔

شندے نے عدالت میں یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے جنوب کی کسی بھی کمپنی کے ساتھ کوئی سودا نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کسی طرح کی کوئی رقم ادا کی ہے۔

سی بی آئی نے ڈی بی گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے جنوب کی ایک ٹی وی کمپنی کو دو ارب روپے ادا کیے تھے۔ اور اس ٹی وی کمپنی میں سیاسی پارٹی ڈی ایم کےگروپ کے لیڈر کروناندھی کے افراد خانہ کے زیادہ شیئرز ہیں۔ سابق مواصلاتی مرکزی وزیر اے راجہ اسی سیاسی پارٹی کے لیڈر ہیں۔

تاہم فرم کے چیف فائنانس افسر آصف بلوا کا دعوی ہے کہ کمپنی نے کلینگرا ٹی وی کو یہ رقم بطور قرض دی تھی جو انہوں نے آٹھ فیصد کے ساتھ واپس کر دی تھی۔

بہت ہی کم عرصہ میں سٹیٹ کاروبار میں اپنا مقام بنانے والی فرم ڈی بی ریالٹی کے بارے میں سی بی آئی تفتیش اور اس کے مبینہ طور پر ٹو جی سپیکٹرم گھپلہ میں نام آنے کی وجہ سے کمپنی کے حصص کی شیئر بازار میں قیمتیں گرنے لگی ہیں۔