انڈیا کی پاکستانی تحقیقاتی کمیشن کو مشروط اجازت

بھارت نے کہا ہے اس نے ممبئی حملے کے سلسلے میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے پاکستان کے ایک تحقیقاتی کمیشن کو بھارت آنے کی اصولی طور پر منظوری دے دی ہے۔ تاہم حکومت نے اسے اپنی ایک ٹیم پاکستان بھیجنے سے مشروط کر دیا ہے ۔

وزیر داخلہ پی چدامبرم نے دلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے کمیشن کو یہاں آنے کی اصولی طور پر اجازت دے دی ہے۔ پاکستان کو واضح طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ انہیں ممبئی حملے کے سلسلے میں جو دستاویزی ثبوت چاہیں وہ عدالت سے حاصل کر کے انہیں دے دیئے جائیں گے ۔ شاید یہ کام آئندہ ایک دو دن میں ہی پورا ہو جائے۔

مسٹر چدامبرم نے کہا پاکستان کے کمیشن کے بارے میں اصولی طورپر حکومت تیار ہے ۔’یہ کمیشن ممبئی حملوں کے تفتیشی افسر اور اس مجسٹریٹ کا بیا ن ریکارڈ کر سکتا ہے جس کے سامنے محمد اجمل قصاب نے اپنا اقبالیہ بیان دیاتھا ۔ساتھ ہی یہ کمیشن ان ڈاکٹروں کے بیان بھی ریکارڈ کر سکتا ہے جنہوں نے اس حملے کے دوران مارے گئے دیگر شدت پسندوں کے پوسٹ مارٹم کیے تھے ۔‘

تاہم بھارتی وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت نے حکومت پاکستان سے یہ پو چھا ہے کہ کیا وہ بھارت کی ایک تفتیشی ٹیم کو اپنے یہاں آنے کی اجازت دے گا جو وہاں ممبئی حملے کے بعض مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کر سکے۔ بھارت کو اپنے سوال کا ابھی جواب نہیں ملا ہے ۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بھارتی ٹیم کن افراد سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے ۔

مسٹر چدامبرم نے کہا ’ہم اپنے سوال کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم ان کا واضح اور ٹھوس جواب ملنے کے بعد ہی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ کریں گے ۔‘

بھارت ممبئی حملے کے سلسلے میں پاکستان میں گرفتار کیےگئے لشکر طیبہ کے ذکی الرحمن لکھوی سمیت چھ ملزموں کے خلاف تیزی سے قانونی کارروائی کرنے پر اصرار کرتا رہا ہے ۔بھارت نے اس سلسلے میں پاکستان کو متعدد دستاویز فراہم کی ہیں ۔ لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز ملزموں پر مقدمہ چلانے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ اسی لیے وہ متعلقہ بھارتی اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے ایک جوڈیشیل کمیشن بھارت بھیجنا چاہتاہے ۔