’معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کے وزیراعطم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ وہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا جاہتے ہیں۔
مسٹر سنگھ بھارت کے زیر انتطام جموں و کشمیر کے ایک روزہ دورے پر ہیں۔ جموں میں شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تقسیم اسناد کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہون نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ جب تک بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہوتے تب تک ایک مکمل طور پر خوشحال بر صغیر کے مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسی طرح کا بیان گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں بھی دیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں ملکون کے داخلہ سکریٹریوں کے درمیان 28 اور 29 مارچ کو نئی دلی میں بات چیت ہونے والی ہے۔
منموہن سنگھ نے جموں کے دورے کے دوران اور دلی روانگی سے قبل پریس کانفرنس میں بھی کہا کہ وہ اندھا دھندگرفتاریوں کے حق میں نہیں ہیں اور یہ کہ وہ اس بارے میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے وضاحت طلب کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ اندھادھند گرفتاریوں کے مسئلے پر جموں میں جاری کشمیر اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن پی ڈی پی نے شدید احتجاج کیا ہے۔
حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ چار ہزار چونسٹھ نوجوانوں کو پچھلے سال کی احتجاجی تحریک کے دوران گرفتار کیا گیا اور ان میں سے تین ہزار نو سو لڑکوں کو رہا کر دیاگیا ہے۔
تاہم پی ڈی پی کے رکن اسمبلی نظام الدین بٹ نے ایوان کو بتایا کہ : ’چار ہزار سات سو بانوے نوجوانوں کو پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ابھی بھی مختلف تھانوں اور جیلوں میں قید ہیں۔‘
واضح رہے کہ پولیس پچھلے سال کی احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کیے جانے کے امکان کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کرہی ہے جن میں ’مشتبہ سنگ بازوں‘ کو بھی گرفتار کیا جارہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسٹر سنگھ نے اس سے قبل یونیورسٹی کنوکیشن سے خطاب کے دوران کہا کہ کشمیر کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے لیکن بھارتی آئین بہت لچک دار ہے اور اس میں تمام مسائل کے حل کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا : ’ہمیں احساس ہے کہ کشمیریوں کو سیاسی، سماجی اور جذباتی شکایات ہیں۔ ہم ان شکایات کا ازالہ کرنے کی سنجیدہ کوشش کررہے ہیں۔ ہم نے رابطہ کاروں کو مختلف حلقوں کے ساتھ بات کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے، اور میں سمجھتا ہوں ہمارے آئین کے اندر تمام مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔‘
بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا ’تمام دشواریوں کے باوجود ہم نے پاکستان سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بات چیت ہم کھلے ذہن سے کریں گے ۔‘
مسٹر سنگھ نے کہا ’ہم دونوں ملکوں کے درمیان تمام تصفیہ طلب معاملات کو دوستانہ مذاکرات اور بامقصد و تعمیری بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں اور اس میں جموں و کشمیر کا مسئلہ بھی شامل ہے۔‘
انھوں نے کہاکہ مذاکرات شروع کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بھارت نے ممبئی حملے کو بھلا دیا ہے ۔’ ہم پاکستان کی حکومت پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اس خونریزی کا ارتکاب کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے‘۔
منموہن سنگھ نے کہا کہ پاکستان میں شدت پسند تنطیموں کی سرگرمیاں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں تاہم پاکستان کے معاشرے میں معقولیت پسند لوگوں میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ پاکستانی معاشرے اور سیاست میں ان تنطیموں کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
’میں پاکستان سے کہنا چاہوں گا کہ کہ وہ شدت پسند عناصر کے خلاف سخت اور فیصلہ کن قدم اٹھائے کیوں کہ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے‘۔





















