جوہری تنصیبات کے تحفظ پر اہم اجلاس

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشن بھارت میں جوہری تنصیبات کے حفاظتی انتظامات پر تشویش پائی جاتی ہے

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ملک کی تمام جوہری تنصیبات پر عالمی سطح کے حفاظتی انتظامات ہونے چاہیں۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو ایک اعلٰی سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ یہ اجلاس بھارت میں کسی بھی طرح کی جوہری مشکلات سے نمٹنے سے متعلق طریقہ کار پر غور کے لیے بلایا کیا گیا تھا۔

نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے کی میٹنگ میں اس بات پر غور کیا گيا کہ بھارت کسی بھی قسم کے مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار ہے۔

جاپان کے شہر فوکوشیما میں سونامی کے بعد جوہری بجلی گھروں کی تباہی کے بعد پھیلی جوہری تابکاری کے پس منظر میں دنیا بھر میں جوہری تنصیبات کے تحفظ سے متعلق غور و فکر کیا جارہا ہے۔

بھارت میں بھی جوہری پلانٹ لگانے کے خلاف احتجاج شروع ہوا ہے اور حکام اس بابت فکر مند ہیں۔

اجلاس کے بعد این ڈی ایم اے کے سربراہ ششی دھر ریڈی نے کہا ’ہم حادثات کے صرف ان ہی پہلوؤں پر غور نہیں کریں گے جو جوہری تنصیبات کے ڈیزائن کے سبب ہوتے ہیں بلکہ دلی میں مایا پوری جیسا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ تابکاری کے ایسے ذرائع سے بھی فوکوشیما کے مقابلے میں کہیں زیادہ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔‘

اس اجلاس میں قدرتی آفات اور اچانک آنے والی مشکلات سے نمٹنے جیسے مسائل پر بھی بات چیت کی گئی۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجیتا پور جوہری پلانٹ کے خلاف احتجاج ہوتا رہا ہے

لیکن خاص توجہ جوہری تنصیبات کی سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات پر رہی۔ جاپان میں زلزلے سے متاثر ہونے والے جوہری بجلی گھروں میں جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اس پر بہت سے حلقوں میں کافی تشویش پائي جاتی ہے۔

بھارت جوہری توانائی کے حصول کے لیے ملک میں کئی جوہری تنصیبات تعمیر کرنے پر غور کررہا ہے۔ ان ہی میں سے ایک ممبئي سے کچھ فاصلے پر جیتا پور میں ایک بڑے پلانٹ کا منصوبہ بھی ہے۔

ماحولیات کی تنظیموں نے اس پروجیکٹ کے خلاف تین برس سے مہم شروع کررکھی ہے۔ تنظیموں نے ممبئی ہائی کورٹ میں اس کے خلاف اپیل کی تھی۔ جسٹس رنجنا دیسائی اور جسٹس اے سید کی ڈویژن بنچ نے اسے گزشتہ برس اگست میں مسترد کر دیا۔

سپریم کورٹ نے بھی اس اپیل کو خارج کر دیا اور کہا کہ اس کے لیے وہ متعلقہ محکمہ سے رجوع کریں۔