بھارت کے سرکاری دفتر میں درجنوں سانپ

سانپ
،تصویر کا کیپشنسانپوں کے جانے کے بعد بھی دفتر کے ملازمین گھنٹوں کا دہشت زدہ رہے۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کی ایک تحصیل کے سرکاری دفتر اس وقت ہلچل مچ گئی جب وہاں درجنوں سانپ گھس آئے۔

دفتر کے ملازمین اپنی اپنی کرسی چھوڑ کر ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اتنی تعداد میں سانپ کہاں سے آ گئے۔ ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لئے جگہ ڈھونڈھنے لگا۔

انتہائی خطرناک سانپوں کو دیکھ کر تحصیل ملازمین میں گھنٹوں تک دہشت چھائی رہی۔

کوئی موبائل سے سانپوں کی ویڈیو کلپ بنانے لگا تو کوئی چادر سے انہیں ڈھكنے کی کوشش کرنے لگا۔

کوئی میز کے اوپر کھڑا ہو گیا تو کسی نے سامان لے کر بھاگنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی۔

واقعے میں کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن ان سانپوں کو نہیں پکڑا جا سکا مگر سببھی لوگوں کے ذہنوں میں صرف ایک ہی سوال تھا کہ آخر یہ سانپ آئے کہاں سے؟

بعد میں پتہ چلا کہ سانپوں کے مسیحا کہلائے جانے والے ہکّل نے ان سانپوں کو اپنے مطالبات نہ پورے ہونے پر تحصیل احاطے میں لا کر چھوڑ دیا تھا۔

مقامی صحافی مظہر آزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ ہکّل دراصل سپیرے ہیں اور جب کبھی بھی کہیں سانپ نکلتا ہے تو انہیں بلایا جاتا ہے۔ آزاد کے مطابق ہکّل سپیروں نے برسوں سے کئی لوگوں کی جان بچائی ہے۔

ہكّل سپیروں نے سانپوں کو محفوظ رکھنے کے لئے حکومت سے زمین دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن جب زمین دینے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو وہ کافی ناراض ہو گئے تھے۔

سپیروں کے مطابق اعلی حکام نے انہیں زمین دینے کا حکم دے دیا تھا لیکن نچلے درجے کے ملازمین انہیں پریشان کر رہے تھے۔

آزاد کے مطابق ہكّل سپیروں نے اپنی مطالبے سے متعلق بھارت کے صدر سے بھی اپیل کی تھی لیکن ان سب کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ آخر میں تنگ آ کر انہوں نے منگل کو درجنوں سانپوں کو تحصیل احاطے میں لے جا کر چھوڑ دیا۔

ابھی یہ پتہ نہیں چلا ہے کہ انتظامیہ نے ہكّل کے اس کارنامے کے بعد کیا اقدام کیے ہیں۔