آج رات شروع ہونے والی متوقع دس روزہ جنگ بندی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان چھ ہفتوں سے زیادہ جاری رہنے والی جنگ کے بعد لبنان کے لیے بہت ضروری ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔
ملک میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور 10 لاکھ لوگ بےگھر ہو چکے ہیں۔
ابتدائی اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حزب اللہ اس معاہدے کی پاسداری کرے گی۔
سینیئر رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ کا کہنا ہے کہ انھیں قلیل مدتی جنگ بندی پر بریف کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ اسرائیل کی جانب سے ہر قسم کے حملے رُکنے کی صورت میں وہ اس جنگ بندی کی پاسداری کریں گے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری اس عمل میں بلاواسطہ ہیں سہی لیکن حزب اللہ کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔
جنگ میں یہ وقفہ لبنان کے صدر جوزف عون اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی فون کال کے بعد سامنے آیا ہے، عون بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ لبنان اسرائیل کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے لیے مذاکرات میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگا جب تک لڑائی بند نہیں ہو جاتی۔
اس کے باوجود بھی زمینی فوجی حقائق صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے اندر موجود ہیں، جہاں حکام کے مطابق وہ سرحد کے ساتھ ایک حفاظتی بفر زون قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
آج اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقے کو لبنان کے باقی حصوں سے ملانے والا آخری پل بھی تباہ کر دیا، جس سے یہ خطہ مزید تنہا ہو گیا اور بہت سے لبنان شہریوں میں یہ خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں کہ اس کے نتیجے میں بعض علاقوں پر اسرائیل کا طویل المدتی قبضہ ہو سکتا ہے۔
یہ جنگ بندی تشدد کو عارضی طور پر تو روک سکتی ہے، لیکن بڑے سیاسی مسئلے کو حل نہیں کرتی: حزب اللہ کے ہتھیاروں کا کیا ہوگا؟
لبنانی حکام طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا کرنے کا اقدام طاقت کے ذریعے نہیں منوایا جا سکتا اور اس کے لیے ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
حزب اللہ نے اب تک ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کو مسترد کیا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو ممکنہ طور پر اس بات کا تعین کرے گا کہ جنگ بندی کا وقفہ ختم ہونے کے بعد آگے کیا ہوتا ہے۔