آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران، امریکہ مذاکرات: پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری، نیتن یاہو کی لبنانی صدر سے بات چیت کا امکان

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں اور اسی سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر گذشتہ شب ایران پہنچے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف تین ممالک کے دورے پر ہیں۔ دوسری جانب ایک اسرائیلی وزیر کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو آج لبنان کے صدر جوزف عون سے گفتگو کریں گے۔

خلاصہ

  • لبنان کے صدارتی دفتر کے اہلکار نے اسرائیل کے ساتھ آئندہ مذاکرات سے متعلق ٹرمپ کے دعوے پر شکوک کا اظہار کیا
  • امریکی سینیٹ نے دو ایسی قراردادیں مسترد کی ہیں جن کا مقصد اسرائیل کو تقریباً 45 کروڑ ڈالر مالیت کے بموں اور بلڈوزروں کی فروخت روکنا تھا
  • امریکی سٹاک مارکیٹس نے بدھ کے روز نئی ریکارڈ سطحیں حاصل کیں۔ سرمایہ کاروں کی توجہ مذاکرات کے تسلسل اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ممکنہ خاتمے پر رہی۔
  • امریکہ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی سمگلنگ کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں
  • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے اور انھیں ’امن کوششوں میں پیشرفت سے آگاہ کیا‘ ہے۔ جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے
  • وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے دوبارہ مذاکرات ہوئے تو ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہوں گے‘

لائیو کوریج

  1. نیتن یاہو لبنان کے صدر سے بات چیت کریں گے: اسرائیلی وزیر

    اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی رکن گالیا گملیل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آج لبنان کے صدر جوزف عون سے گفتگو کریں گے۔

    یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پوسٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما جمعرات کو بات چیت کریں گے۔

    تاہم جمعرات کو لبنان کے صدارتی دفتر کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں اسرائیل کے ساتھ کسی متوقع رابطے کے بارے میں علم نہیں ہے۔

    اب معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات چیت ہو سکتی ہے۔ مزید معلومات ملنے پر ہم آپ کو آگاہ کریں گے۔

  2. امریکہ-ایران مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری: پاکستانی دفتر خارجہ

    پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ تاحال ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا تاہم اس حوالے سے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔

    اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اسی سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر گذشتہ شب ایران پہنچے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف تین ممالک کے دورے پر روانہ ہوئے۔

    طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے ثالثی کے کردار میں ’متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان کوششوں کے تحت وزیر اعظم اس وقت اہم علاقائی ملکوں کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر گذشتہ روز تہران پہنچے۔‘

    ’یہ (دورے) ہماری قیام امن کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بات چیت اور تعاون کے ذریعے پیشرفت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں پاکستان کی ثالثی اور مثبت کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔‘

    گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا احوال بیان کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت 21 گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ثالثی میں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے اس دور کے بعد اسحاق ڈار نے بات چیت جاری رہنے کی امید ظاہر کی تھی۔ اب ان کی یہ بات درست ثابت ہوئی کیونکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر گذشتہ روز ایران میں موجود تھے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف تین ملکوں کے دورے پر ہیں۔‘

  3. پاکستانی بحریہ کا مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ: آئی ایس پی آر

    پاکستان کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیار کردہ جہاز سے داغے جانے والے اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مقامی ساختہ اینٹی شپ میزائل نے طویل فاصلے پر ہدف کو انتہائی درستگی اور تیز رفتاری سے نشانہ بنایا۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے میزائل فائرنگ کا مشاہدہ کیا جبکہ سائنسدانوں اور انجینیئرز کی ٹیم بھی تجربے کے دوران موقع پر موجود تھی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل جدید گائیڈنس سسٹم اور اعلیٰ صلاحیت کی حامل ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ ’میزائل خطرات سے بچنے اور بدلتی صورتحال میں مؤثر انداز سے ہدف حاصل کرتا ہے۔‘

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ مقامی سطح پر تیار میزائل ’پاکستان کی تکنیکی مہارت کا واضح ثبوت ہے۔۔۔۔ کامیاب تجربے پر صدر، وزیراعظم اور عسکری قیادت نے ٹیم کو سراہا۔‘

    آئی ایس پی آر نےکہا ہے کہ پاکستانی بحریہ سمندری دفاع کو مضبوط اور مؤثر بنانے کیلئے پرعزم ہے۔

  4. حزب اللہ کے اسرائیل پر میزائل حملے، اسرائیل کا جنوبی لبنان پر حملوں سے قبل انتباہ

    لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے آج صبح اسرائیل کی جانب راکٹ داغے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر جاری بیان میں تنظیم نے کہا ہے کہ مقامی وقت صبح 8 بج کر 45 منٹ پر اسرائیل کے شمالی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ علاقے لبنان کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔

    حزب اللہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ہمارے ملک اور ہمارے عوام کے خلاف اسرائیلی امریکی جارحیت بند نہیں ہو جاتی۔‘

    اسرائیل کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

    ادھر اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان نے جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رہنے کے دوران وہاں کے رہائشیوں کے لیے ایک ’ہنگامی انتباہ‘ جاری کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اسرائیلی فوج کو اس علاقے میں کارروائی پر ’مجبور‘ کر رہی ہے اور یہ کہ آئی ڈی ایف کا ’شہریوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘

    انھوں نے آج صبح جاری اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ہم ایک بار پھر دہراتے ہیں اور آپ سے کہتے ہیں کہ فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کریں اور فوراً زہرانی دریا کے شمال کی جانب چلے جائیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جو کوئی بھی حزب اللہ کے عناصر، ان کی تنصیبات یا ان کے جنگی وسائل کے قریب موجود ہوگا، اپنی جان کو خطرے میں ڈالے گا۔‘

  5. ایران-امریکہ جنگ بندی اور مذاکرات: تازہ صورتحال کیا ہے؟

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ایران کے ساتھ ’تعمیری‘ بات چیت جاری ہے جبکہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکہ معاہدے کے لیے پُرامید ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مذاکرات کے لیے کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔

    ادھر بدھ کی شب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا ایک وفد تہران پہنچا ہے۔ پاکستان امریکی اور ایرانی مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یہ وفد ایرانی قیادت کے ساتھ مزید بات چیت کرے گا۔

    دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں پر امریکی ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہے۔ اس حوالے سے یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کب تک جاری رہے گی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد سے کوئی بھی بحری جہاز اس سے گزر نہیں سکا۔ سینٹکام کے مطابق دس بحری جہازوں نے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

    بی بی سی ویریفائی کے مطابق خطے میں کئی بحری جہازوں نے اپنی نگرانی کے نظام بند کر دیے ہیں۔ بعض کے سگنلز میں رکاوٹ ڈالی گئی یا انھیں جعلی طریقے سے ظاہر کیا گیا تاکہ اپنی اصل پوزیشن چھپائی جا سکے۔

    دوسری طرف لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف نے لیتانی دریا کے جنوب میں پورے علاقے کو حزب اللہ کے لیے ’مہلک زون‘ قرار دیا ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنگ کے حوالے سے اسرائیل اور امریکہ کے اہداف ایک ہیں۔

    یہ صورتحال منگل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ لبنان نے ان مذاکرات کو تعمیری قرار دیا جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اس معاملے میں ’ایک ہی صفحے پر‘ ہیں۔

  6. اسرائیل سے ممکنہ رابطے کے بارے میں علم نہیں: لبنان کا صدارتی دفتر

    لبنان کے صدارتی دفتر کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لبنان کو اسرائیل کے ساتھ کسی متوقع رابطے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

    یہ بیان ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ممکنہ گفتگو کا عندیہ دیا گیا تھا۔

    منگل کے روز واشنگٹن ڈی سی میں اسرائیل اور لبنان کے حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ یہ 1993 کے بعد پہلی بار دونوں فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت تھی۔

    لبنان نے ان مذاکرات کو تعمیری قرار دیا جبکہ اسرائیل کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اس معاملے میں ایک ہی صفحے پر ہیں۔ تاہم اس کے باوجود حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملے جاری ہیں۔

  7. ترکی میں دو روز کے دوران دو سکولوں میں فائرنگ، نو افراد ہلاک جبکہ درجنوں طلبہ زخمی

    ترکی کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ جنوبی ترکی میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم آٹھ طلبہ اور ایک ٹیچر ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ واقعہ ترکی کے شہر کہرامان مرعش میں واقع آیسر چالک سیکنڈری سکول میں پیش آیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق 13 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چھ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران 14 سالہ حملہ آور بھی ہلاک ہوا۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایک دن قبل ہی جنوبی ترکی میں ایک اور ہائی سکول میں سابق طالب علم کی فائرنگ سے 16 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ بعد ازاں اس حملہ آور نے خودکشی کر لی تھی۔

    بدھ کے روز ہونے والے اس تازہ حملے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    ترک میڈیا کے مطابق حملہ آور، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ طالب علم تھا، دو کلاس رومز میں داخل ہوا۔ اس کے پاس پانچ بندوقیں اور سات میگزین موجود تھے۔

    مقامی گورنر نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ اسلحہ طالب علم کے والد کا تھا جو سابق پولیس اہلکار ہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور کے والد کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

    بی بی سی کی تصدیق شدہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کے دوران بعض افراد سکول کی پہلی منزل کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی کے ایک رپورٹر نے کہا کہ ’گولیوں کی آواز بہت شدید تھی‘ اور سکول کے باہر ’شدید بھگدڑ‘ مچی ہوئی تھی۔

    واقعے کی خبر پھیلنے کے بعد روتے ہوئے والدین سکول کے باہر جمع ہو گئے۔

    ایک والد عمر ارداغ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میرے بچے نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس نے کہا میرا دوست زخمی ہو گیا ہے‘۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں اب اپنے بچوں کو دوبارہ اس سکول کیسے بھیجوں گا؟‘

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ’ہمارے بچوں، خاندانوں اور اساتذہ کی جلد صحت یابی کے خواہاں ہیں۔‘

  8. شہباز شریف کی آج مدینہ سے دوحہ روانگی

    پاکستان کے وزیر اعظم آفس کا کہنا ہے کہ آج شہباز شریف دورہ قطر کے لیے دوحہ پہنچیں گے۔ ’دوحہ میں وزیرِ اعظم کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی سے دو طرفہ ملاقات ہوگی.‘

    گذشتہ شب وزیرِ اعظم شہباز شریف جدہ سے مدینہ منورہ پہنچے تھے جہاں انھوں نے ’مدینہ منورہ میں مسجد النبوی میں حاضری دی اور ملک و قوم کی ترقی سمیت دنیا بھر میں امن و آشتی کے لیے دعائیں کیں۔‘

    ’وزیرِ اعظم کی آمد پر وزیرِ اعظم اور وفد کے لیے روضہ رسول کے دروازے کھولے گئے۔‘

    وزیرِ اعظم سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے مدینہ سے دوحہ جائیں گے۔

  9. میں جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں: ایرانی رہبر اعلیٰ کے مشیر

    ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ ’ہم آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک ہمارے حقوق مکمل طور پر تسلیم نہیں کیے جاتے۔‘

    ایران کے مجمعِ تشخیصِ مصلحت نظام کے رکن محسن رضائی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر اِن چیف بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے ایران کے اندر خبر رساں اداروں کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’امریکی مسلسل جنگ سے خوف زدہ ہیں جبکہ ہم ایک طویل جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور اس کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔‘

    انٹرویو میں انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسٹ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’اگر ایرانی بحریہ تباہ ہو چکی ہے تو پھر امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی جرات کیوں نہیں کرتا؟‘

    محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ ملکی قیادت کے فیصلوں کی پیروی کرتے ہیں تاہم ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع پر آمادہ نہیں ہونا چاہیے۔

  10. بریکنگ, اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کے درمیان 34 سال بعد جمعرات کو رابطہ ہوگا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں کچھ کمی کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ’دونوں (ملکوں کے) رہنماؤں کے درمیان کافی عرصے سے بات نہیں ہوئی، تقریباً 34 برس گزر چکے ہیں۔ یہ رابطہ کل ہو گا۔‘

  11. امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ غلطی تھی: برطانوی وزیر خزانہ

    برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کا خاتمہ اور فوجی تصادم کی شروعات امریکہ کی ایک غلطی ہے۔

    سی این بی سی کے پروگرام انویسٹ اِن امریکہ سے بات کرتے ہوئے ریچل ریوز نے کہا کہ ’اس وقت بہترین معاشی پالیسی، نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا کے لیے کشیدگی میں کمی ہے۔‘

    برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی جانب سے ایران پر اضافی دباؤ ڈالنے کے لیے کی جانے والی فوجی ناکہ بندی میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس تنازعے پر امریکہ اور برطانیہ کے درمیان بڑھتے اختلافات نے دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی تعلق‘ کو متاثر کیا ہے تو ریچل ریوز نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔

    تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’دوستوں کے درمیان اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے۔‘

  12. ایران کے خلاف بمباری جیسے مالیاتی اقدامات کے لیے تیار ہیں: امریکی سیکریٹری خزانہ

    امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران پر معاشی دباؤ میں نمایاں اضافہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے اقدامات کے لیے تیار ہے جو مالی لحاظ سے بمباری کی مہم کے برابر ہوں گے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کمپنیوں اور ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ ایرانی تیل خرید رہے ہیں یا ایرانی رقوم ان کے بینکوں میں موجود ہیں تو امریکہ ثانوی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے جنھیں انہوں نے ’انتہائی سخت اقدام‘ قرار دیا۔

    ان کے بقول ایرانی حکام کو آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ اقدامات مالی اعتبار سے اسی نوعیت کے ہوں گے جیسا کہ فوجی کارروائیوں میں دیکھا گیا۔

    ایک روز قبل امریکی محکمہ خزانہ نے چین، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات اور عمان میں مالیاتی اداروں کو خطوط ارسال کیے تھے جن میں ایران کے ساتھ کاروبار رکھنے پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

  13. عالمی برادری آبنائے ہرمز کی بحالی چاہتی ہے، چینی وزیر خارجہ کا عراقچی کو پیغام

    چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب کو بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بین الاقوامی برادری کا متفقہ مطالبہ ہے۔

    چینی سرکاری بیان کے مطابق بدھ کی شب فون پر گفتگو کے دوران وانگ یی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ساحلی ملک کی حیثیت سے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور جائز حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آبنائے کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی اور آمدورفت کا تحفظ بھی یقینی ہونا چاہیے۔

    وانگ یی نے کہا کہ عالمی برادری چاہتی ہے کہ آبنائے میں معمول کی آمدورفت بحال کی جائے۔

    انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال جنگ اور امن کے درمیان ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکی ہے۔ ان کے بقول امن کا موقع پیدا ہوا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وانگ یی کو بتایا کہ ایران پرامن مذاکرات کے ذریعے ایک معقول اور حقیقت پسندانہ حل تلاش کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کو تیار ہے۔

  14. لبنان کے ساتھ مذاکرات کے دوران اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ لبنان کے ساتھ امن مذاکرات کے باوجود اسرائیلی فوج حزب اللہ کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ جنوبی لبنان میں واقع بنت جبیل پر قابو پانے کے قریب ہے جسے انھوں نے اس تنظیم کا مضبوط گڑھ قرار دیا۔

    ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ انھوں نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون کو مزید مضبوط بنایا جائے جبکہ اسی دوران بیروت کے ساتھ امن معاہدے پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ مذاکرات گذشتہ 40 برس میں نہیں ہوئے۔ یہ اب اس لیے ممکن ہو رہے ہیں کیونکہ ہم مضبوط ہیں اور ممالک خود ہمارے پاس آ رہے ہیں، صرف لبنان ہی نہیں۔‘

    نیتن یاہو کے مطابق لبنان کے ساتھ بات چیت میں اسرائیل کے دو بنیادی مقاصد ہیں: پہلا حزب اللہ کا خاتمہ اور دوسرا دیرپا امن، جو ان کے بقول ’طاقت کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔‘

    اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی افواج اس وقت بنت جبیل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جسے انھوں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا دارالحکومت قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم عملی طور پر حزب اللہ کے اس بڑے مضبوط گڑھ کے خاتمے کے قریب ہیں۔‘

    ایران کے حوالے سے نیتن یاہو نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کو باخبر رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے اہداف ہم آہنگ ہیں۔ ان کے مطابق ان اہداف میں ایران سے افزودہ جوہری مواد کی منتقلی، ایران میں افزودگی کی صلاحیتوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ یہ معاملہ کس انجام تک پہنچے گا یا آگے کس طرح بڑھے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو ’ہم ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں۔‘

  15. امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو اسلحے کی فروخت روکنے کی کوشش ناکام

    بدھ کے روز امریکی سینیٹ نے دو ایسی قراردادیں مسترد کی ہیں جن کا مقصد اسرائیل کو تقریباً 45 کروڑ ڈالر مالیت کے بموں اور بلڈوزروں کی فروخت روکنا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کے ریپبلکن سینیٹرز نے اسرائیل کی حمایت میں ان کا ساتھ دیا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 47 رکنی ڈیموکریٹک سینیٹ کاکس کے اراکین کی بڑی تعداد کی جانب سے ان قراردادوں کی حمایت سے اس جماعت کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی سامنے آئی۔ یہ بے چینی غزہ، لبنان اور ایران میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہریوں پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے ہے۔

    امریکی کانگریس میں اسرائیل کے لیے دہائیوں پر محیط دو جماعتی حمایت کی روایت کے باعث اس نوعیت کی قراردادوں کی منظوری کا امکان کم ہوتا ہے۔ لیکن ان کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس بحث سے اسرائیلی حکومت اور امریکی انتظامیہ پر شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔

    اسلحے کی فروخت کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیل امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کو اسرائیل کو فوجی ساز و سامان فراہم کرنا چاہیے۔

    ورمونٹ سے آزاد سینیٹر برنی سینڈرز، جو ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں، نے ان قراردادوں پر ووٹنگ کرانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فروخت غیر ملکی معاونت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے، جن میں فارن اسسٹنس ایکٹ اور آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ شامل ہیں۔

    پہلی قرارداد کے تحت 29 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے ڈی نائن آر اور ڈی نائن ٹی کیٹرپلر بلڈوزرز، پرزہ جات اور دیگر معاونت کی فروخت روکنے کی تجویز تھی۔ اس قرارداد کو آگے بڑھانے کے خلاف 59 اور حمایت میں 40 ووٹ پڑے۔

    سات ڈیموکریٹ سینیٹرز نے تمام ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ مل کر اس قرارداد کو آگے بڑھانے کی مخالفت کی۔ وائومنگ سے تعلق رکھنے والی ریپبلکن سینیٹر سنتھیا لمس نے ووٹ نہیں دیا۔

    دوسری قرارداد کے تحت ایک لاکھ اکاون کروڑ 80 لاکھ ڈالر مالیت کے 12 ہزار ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بی ایل یو 110 اے بی عام نوعیت کے بموں اور ان سے متعلق تکنیکی و لاجسٹک معاونت کی فروخت روکنے کی تجویز تھی۔

    اس قرارداد کو روکنے کے لیے 63 کے مقابلے میں 36 ووٹ پڑے۔ 11 ڈیموکریٹس نے تمام ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ مل کر اس کے خلاف ووٹ دیا۔ نارتھ کیرولائنا سے ریپبلکن سینیٹر تھوم ٹلس نے ووٹ نہیں دیا۔

    برنی سینڈرز نے کہا کہ اسرائیل یہ بم غزہ اور لبنان میں حملوں کے لیے استعمال کرتا ہے جبکہ بلڈوزرز غزہ، لبنان اور مغربی کنارے میں گھروں کو گرانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ دسیوں ارب ڈالر کی فوجی امداد اور اسلحہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے تاکہ وہ ان مظالم کا خاتمہ کرے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔ اس کے مطابق اس کے حملوں کا مقصد عسکریت پسندوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔

    بدھ کی ووٹنگ سے اسرائیل کو اسلحہ فروخت محدود کرنے کی کوششوں کی حمایت میں اضافے کا عندیہ ملا ہے۔ جولائی میں بھی غزہ میں شہری ہلاکتوں کے تناظر میں اسلحے کی فروخت روکنے کی دو قراردادیں سینیٹ میں مسترد کر دی گئی تھیں۔

    برنی سینڈرز کی جانب سے پیش کی گئی ان قراردادوں کو 100 رکنی ایوان میں 73 کے مقابلے میں 24 اور 70 کے مقابلے میں 27 ووٹوں سے مسترد کیا گیا تھا۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز میں اسلحے کی فروخت کے معمول کے کانگریسی جائزے کو نظر انداز کر دیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر اسلحہ منتقل کرنا ضروری تھا۔

  16. ایران جنگ کے خاتمے کی امید، امریکی سٹاک مارکیٹ ریکارڈ بلندی پر

    امریکی سٹاک مارکیٹس نے بدھ کے روز نئی ریکارڈ سطحیں حاصل کیں۔ سرمایہ کاروں کی توجہ مذاکرات کے تسلسل اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ممکنہ خاتمے پر رہی۔

    28 فروری کو ایران پر حملے شروع ہونے کے بعد وال سٹریٹ کے بڑے انڈیکسز میں نمایاں کمی آئی تھی۔ اس کی وجہ طویل تنازع اور معاشی کساد بازاری کے خدشات تھے۔

    تاہم حالیہ مذاکرات کو امریکہ کی جانب سے تعمیری قرار دیے جانے کے بعد صورتحال میں بہتری دیکھی گئی۔ اس کے نتیجے میں ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک دونوں نے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطحیں حاصل کر لیں۔

    ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ پہلی بار سات ہزار کی سطح سے اوپر بند ہوا۔ حملوں کے آغاز پر یہ انڈیکس چھ ہزار 878 پر تھا۔

    نیس ڈیک انڈیکس میں بھی 1.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 24 ہزار 16 کی سطح پر پہنچ گیا۔ یہ ایک نیا ریکارڈ ہے اور تنازع سے پہلے کی سطح سے خاصا زیادہ ہے۔

    اس کے برعکس ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج اب تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آ سکا۔ بدھ کے روز اس میں نمایاں تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

  17. امریکی محکمۂ خزانہ کی ’تیل کی سمگلنگ میں ملوث‘ ایرانی شہری پر پابندیوں کا اعلان

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے بعد ’اکانومک فیوری‘ کی مہم کے تحت ایرانی تیل کی سمگلنگ کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    ایک بیان میں امریکی محکمۂ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے سابق سکیورٹی اہلکار علی شمخانی کے بیٹے محمد حسین شمخانی کے زیر انتظام تیل کی سمگلنگ کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ایک وسیع بحری نیٹ ورک کے ذریعے ایرانی تیل کی ترسیل اور فروخت میں ملوث رہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک نے اربوں ڈالر کی آمدن حاصل کی ہے۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ سے منسلک ایک پیچیدہ مالیاتی منصوبے سے وابستہ اہداف پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔ یہ منصوبہ مبینہ طور پر سونے کے تبادلہ مراکز کے گرد ترتیب دیا گیا تھا اور اس سے بالآخر ایران کے فوجی نظام کو فائدہ پہنچتا ہے۔

    امریکی عہدیداروں کے مطابق اس منصوبے میں سونے کے ذخائر کو نقد رقم میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تجارتی اور ترسیلی نیٹ ورکس کے ذریعے پابندیوں سے بچتے ہوئے حزب اللہ کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔

  18. شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو ’امن کوششوں میں حالیہ پیشرفت سے آگاہ کیا‘

    پاکستان کے وزیر اعظم ہاؤس نے شہباز شریف کی جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بارے میں ایک پیغام جاری کیا ہے۔

    اس کے مطابق ’تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مملکت سعودی عرب کے لیے مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ انھوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘

    اس کے مطابق شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو ’پاکستان کی امن کوششوں سے متعلق حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے امریکہ ایران جنگ بندی ہوئی اور حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کا دور ہوا۔ ولی عہد نے امن کے اس عمل میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تعمیری کردار کو سراہا۔‘

    ’دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مملکت سعودی عرب کی مسلسل حمایت پر ولی عہد سعودی عرب کے لیے اپنی مخلصانہ تعریف کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور مملکت کے درمیان منفرد تعلقات ہیں کیونکہ دونوں ممالک پاکستان-سعودی عرب سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک دفاعی شراکت دار ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔‘

  19. امریکہ کو جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت تسلیم کرنا ہوگی: باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’امریکہ کو لبنان سمیت جنگ بندی کے معاہدے کی ’پابندی کرنا ہوگی۔‘

    انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’لبنان میں جامع جنگ بندی کی تکمیل حزب اللہ کی ثابت قدم جدوجہد پر منحصر ہے جو ایران کی حمایت یافتہ تنظیم ہے۔‘

    قالیباف نے کہا کہ ’ایران اور ’محورِ مزاحمت‘ (جو کہ ایران کی حمایت یافتہ علاقائی تنظیموں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے) جن میں حزب اللہ، حماس، یمن کے حوثی اور عراقی شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں، ایک ہی روح کی مانند ہیں، چاہے جنگ ہو یا جنگ بندی۔

    انھوں نے آخر میں کہا کہ امریکہ کو اسرائیل فرسٹ کی غلطی سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔

  20. ناکہ بندی سے بچ نکلنے والے ایرانی پرچم بردار بحری جہاز روک لیا گیا: امریکہ کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ اس نے ایرانی پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک لیا ہے جس نے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں پر عائد ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کی تھی۔

    سینٹکام کے مطابق یہ جہاز منگل کے روز ایرانی بندرگاہ والے شہر بندر عباس سے روانہ ہو کر آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد روکا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر یو ایس ایس سپرونس نے ’کامیابی کے ساتھ جہاز کا رخ موڑ دیا‘ اور اب یہ ایران کی جانب واپس جا رہا ہے۔

    سینٹکام نے مزید بتایا کہ اب تک 10 جہازوں کو واپس ایران بھیجا جا چکا ہے اور پیر کے روز نافذ کی گئی اس ناکہ بندی کے بعد کوئی بھی جہاز اسے عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

Trending Now