طالبان نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی

پشاور کے فائیو سٹار ہوٹل پر ہونے والے حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنپشاور کے فائیو سٹار ہوٹل پر ہونے والے حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور اور سرحد کے شہر نوشہرہ اور پشاور میں پری کانٹی نینٹل ہوٹل پر ہونے والے مبینہ خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

خود کو اورکزئی ایجنسی میں طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کا نائب ظاہر کرنے والے ایک شخص سعید حافظ نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ حملے طالبان کے خلاف بیانات دینے ، سوات اور اورکزئی ایجنسی میں دینی مدرسوں پر ہونے والے سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں کے ردرعمل میں کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں ممتاز عالم دین ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی پر اس لئے حملہ کیا گیا کیونکہ انہوں نے خودکش حملوں کے خلاف بیان دیا تھا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ منگل کو پشاو میں پرل کانٹینٹل ہوٹل پر ہونے والا حملہ بھی اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے دو خودکش حملہ آواروں نے کیا تھا۔ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ ان کے پاس اس حملے کا وڈیو بھی موجود ہے جو آئندہ دو تین دنوں تک ذرائع ابلاغ کو جاری کیا جائے گا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ پشاور ہوٹل پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری ' عبداللہ عزام' نامی ایک تنظیم قبول کرچکی ہے، تو انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کے افراد سے ان کا رابط ہوا تھا اور انہوں نے غلطی سے یہ ذمہ داری قبول کرلی تھی۔

سعید حافظ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ جب میڈیا کو اس حملے کی وڈیو جاری کردیں گے تو پھر دنیا کو یقین ہوجائے گا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام حملے سوات اور اورکزئی ایجنسی میں جاری سکیورٹی فورسز کی کاوائیوں کے ردعمل میں کئے گئے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ چند دن قبل جیٹ طیاروں نے اورکزئی ایجنسی میں تین مدرسوں کو نشانہ بنایا تھا۔

تاہم فوج کا کہنا ہے کہ جن مدرسوں پر حملے کئے گئے ہیں وہاں سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کی منصوبہ ہوتی تھی اور دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی تھی۔

واضح رہے کہ آجکل طالبان کے اہم کمانڈرز سکیورٹی خدشات اور فوج کے کاروائیوں کے باعث میڈیا سے براہ راست بات کرنے سے کتراتے ہیں اس لئے غیر معروف طالبان کمانڈرز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرکے حملوں کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں۔