’غداری قرارداد، رواں اجلاس میں‘

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے حق میں پارلیمانی قرارداد قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات نواز لیگ کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد بی بی سی کو بتائی۔
راجہ ظفر الحق نے بتایا کہ جمعرات کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اس مجوزہ قراراد کے بارے میں بحث کی گئی جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ یہ قرارداد قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
قومی اسمبلی کا پندرھواں اجلاس اسی ہفتے شروع ہوا ہے اور توقع ہے کہ یہ تین ہفتے تک جاری رہے گا۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی کمیٹی نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے حق میں ایک قرارداد بھی منظور کی۔
راجہ ظفرالحق نے بتایا کہ پارٹی کے قائد میاں نواز شریف دو روز بعد لندن سے پاکستان واپس پہنچ رہے ہیں جن کی مشاورت اور منظوری پرویز مشرف کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی اس قرارداد کے سلسلے میں حاصل کی جائے گی۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں مطالبہ کیا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف آئین کی شق چھ کے تحت سنگین بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے۔
حال ہی میں لندن سے لوٹنے والے چوہدری نثار علی خان نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں اقدامات کرے اور اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ان کی جماعت پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے حق میں قومی اسمبلی سے قرارداد منظور کروانے کی کوشش کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چوہدری نثار علی خان کی اس جذباتی تقریر کے جواب میں اسمبلی میں موجود وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایوان کو یقین دلایا تھا کہ اگر پارلیمنٹ سابق صدر کے خلاف مقدمہ چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرے تو حکومت اس پر عمل کرے گی۔
واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت آئین کو توڑنے والے کے خلاف سنگین بغاوت کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے جس کی سزا عمر قید یا موت تجویز کی گئی ہے۔
تاہم کسی بھی فرد یا افراد کے خلاف یہ مقدمہ صرف حکومت کی جانب سے ہی دائر کیا جا سکتا ہے۔





















