بیت اللہ سے تعلق خبر کی حد تک

بیت اللہ محسود
،تصویر کا کیپشنبیت اللہ کو ان کے نظریات اور سوچ سے ہٹانے کی ہم نے یا حکومت نے کتنی کوشش کی؟
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بیت اللہ محسود سے پہلی ملاقات فروری دو ہزار پانچ میں سراروغہ کے مقام پر حکومت کے ساتھ ان کے پہلے اور آخری امن معاہدے پر دستخط کے وقت ہوئی تھی۔

معاہدے پر دستخط سے چند منٹ قبل وہ ڈبل کیبن گاڑی میں اپنے درجنوں محافظوں کے ساتھ پہنچے اور ایک قریبی مکان کے تاریک سے کمرے میں چلے گئے۔ وہیں مجھ سمیت کئی صحافیوں نے ان سے بات کی۔ یہ ان کا میڈیا سے اور ہمارا ان سے پہلا بالمشافہ رابطہ تھا۔

اس وقت وہ اتنے نئے تھے کہ کسی مشکل سوال کے پوچھنے پر ہمیں ریکارڈنگ روکنے کا کہہ کر جواب سوچتے اور پھر بات کرتے۔ لیکن پھر چار سال کے عرصے میں اتنے تجربہ کار ہوئے کہ ہر سوال کا ’ڈیپلومیٹک‘ جواب دینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا۔ اس دوران وہ محض میڈیا کی حد تک شاطر نہیں ہوئے بلکہ دنیا کے خطرناک ترین انسانوں میں بھی سرفہرست آگئے۔

اس کے بعد ان سے دو مزید ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک شمالی وزیرستان میں اور دوسری گزشتہ برس مئی میں۔ دونوں ملاقاتوں میں ان کی بظاہر گرمجوشی اور مہمان نوازی اس شخص کے اندر کا ’سنگ دل‘ انسان چھپا رہی تھی۔ بہت لوگوں کی نظر میں وہ بےشک جابر تھے اور میں بھی ان کی سوچ اور نظریات کا حامی نہیں تھا۔ لیکن ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک انسان تھے اور ایک ایسا شخص جو اپنی سوچ اور نظریے کی خاطر سینکڑوں انسانوں کو قتل کرنے سے گریز نہیں کرتا تھا۔

انہیں ان کے نظریات اور سوچ سے ہٹانے کی ہم نے یا حکومت نے کتنی کوشش کی؟

کالاروغہ کے مقام پر ایک سرکاری سکول میں اخباری کانفرنس سے قبل بیت اللہ محسود ہاتھ پکڑ کر ساتھ اندر لے گئے اور اپنے پاس زمین پر بٹھایا۔ جب باتیں ختم ہوئیں اور صحافیوں نے فوراً سیٹلائٹ فون پر خبر بھیجنا شروع کیں تو بیت اللہ مجھ سے یہ کہہ کر روانہ ہوئے کہ ’اب میرا یہاں زیادہ ٹھہرنا میرے اور صحافیوں کے لیے مناسب نہیں‘۔ اُس وقت تو خیریت رہی لیکن وہی ڈرون جو ہر وقت قبائلیوں کے سروں پر منڈلاتے رہتے ہیں بلآخر ان کی موت کا سبب بنا۔

بعض افراد کو جن میں اکثریت صحافیوں کی ہے ان کے مجھ سے ٹیلیفون پر ہمیشہ رابطے پر تکلیف بھی ہوتی تھی۔ وہ اسی وجہ سے مجھ پر طرح طرح کے الزام بھی عائد کرتے رہے بلکہ شاید اب بھی کرتے ہیں۔ لیکن میرے پیشے کے تقاضے کے مطابق میرا ان سے تعلق ایک صحافی اور ان کی خبر سے شاید زیادہ نہ تھا۔ وہ بھی جب کوئی بیان یا خبر ہوتی تو فون کرتے۔ میں نے انہیں کبھی فون نہیں کیا۔ انہیں شاید مجھ پر اعتماد تھا کہ میں کوئی ’شرارت‘ نہیں کروں گا۔

بطور انسان کسی کو جاننے کے بعد اس کے ایسے انجام سے دل تو دکھتا ہے۔ وہ چاہے کوئی بھی ہو۔ ایک دو مرتبہ حادثاتی طور پر ملنے والا جان اللہ ہاشم زادہ جیسا صحافی ہو یا صحافی حیات اللہ جو میرا اچھا دوست تھا۔

ایک طالبان کمانڈر نے ایک اور دورے میں بتایا تھا کہ وہ اپنے ان قیدیوں سے نہیں ملتے جنہیں ذبح کرنا یا مارنا مقصود ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ملنے ملانے سے اس شخص کے بارے میں دل میں کہیں کوئی نرم گوشہ نہ پیدا ہو جائے۔ مجھے بھی یہی نرم گوشہ شاید افسوس پر مجبور کر رہا ہے۔

بعض لوگوں کو اس نرم گوشے پر بھی غصہ آئے گا۔ لیکن ان کی موت پر میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک انسان (محض انسان اور کچھ نہیں) کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کروں یا اس انسان کو اس جگہ پہنچانے والوں کا بین کروں؟ قبائلی علاقوں کے عوام کو گمراہ کرنے والوں پر تنقید کروں یا دوسروں کے اشاروں پر کچھ سوچے سمجھے بغیر عمل کرنے والوں کی عقل کا ماتم کروں؟