باڑہ:آپریشن جاری، کمانڈر کا گھرتباہ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنمنگل کے روز سکیورٹی فورسز نےچالیس شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے سب ڈویژن باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی بدھ کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔ تازہ کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز نے عسکریت کے مراکز اور مکانات کو مسمار کر دیا گیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے باڑہ سب ڈویژن کے علاقے قمر خیل میں مبینہ شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے ایک کمانڈر حاجی حلیم خان کے گھر کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شلوبر کے علاقے میں بھی لشکر اسلام کے ایک مرکز کو مسمار کردیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ باڑہ میں آپریشن کے دوسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے علاقے میں تمام بازار، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے باڑہ میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے پہلے دن چالیس شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ تینتالیس کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم حکومتی دعوؤں کی مقامی طور پر تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔

خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ طارق حیات نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ باڑہ میں کارروائیاں شدت پسندوں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔

چند دن قبل پاک افغان سرحد کے قریب پاکستانی علاقے میں خاصہ دار فورس کے اہلکاروں پر ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں اکیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے متعدد بار شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم حکومت بظاہر ان تنظیموں کو مکمل طورپر ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔