باڑہ آپریشن اٹھارہ شدت پسندگرفتار

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے تازہ کارروائیوں میں مزید بارہ شدت پسندوں کے مکانات کو تباہ کردیا ہے جبکہ اٹھارہ مشتبہ عسکریت پسندوں کوگرفتار کرلیاگیا ہے۔گرفتار ہونے والوں میں شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے ایک شورٰی رکن بھی شامل ہیں۔
فرنٹیر کور کے میڈیا سیل کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جمعرات کو تیسرے روز بھی باڑہ سب ڈویژن کے حدود میں شدت پسندوں تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تازہ کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شدت پسند تنظیم لشکر سے تعلق رکھنے والے بارہ جنگجوؤں کے مکانات کو تباہ کردیا۔ سکیورٹی فورسز نے اٹھارہ جنگجوؤں کو بھی گرفتار کرلیا ہے جن میں لشکر اسلام کے شورٰی رکن گلمت خان بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ باڑہ میں آپریشن کی وجہ سے بدستور تمام بازار، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں جس کی وجہ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
خیال رہے کہ منگل کو سکیورٹی فورسز نے باڑہ سب ڈویژن میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا جس میں حکام کے مطابق اب تک ساٹھ کے قریب شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں ستر سے زائد جنگجوؤں کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ طارق حیات نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ باڑہ میں کارروائیاں شدت پسندوں کےمکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔
یاد رہے کہ خیبر ایجنسی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے متعدد بار شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم حکومت بظاہر ان تنظیموں کو مکمل طورپر ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔


















