’خطے میں امن دونوں کے مفاد میں‘

شاہ محمود قریشی(فائل فوٹو)
    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اس لیے پاکستان کی جتنی بھی خـواہش ہو اگر دوسری طرف سے مثبت رویہ سامنے نہ آیا تو بات آگے نہیں چلے گی۔

انہوں نے ملتان میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئےکہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام پاک بھارت دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں نیویارک میں بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات کا موقع ملتا ہے تو وہ دونوں ملکوں کے درمیان تمام اہم معاملات پر پاکستان کا واضح موقف پیش کریں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب نے پاکستان کو سابق صدر کے بارے میں کارروائی کرنے سے روک دیا ہے تو شاہ محمو د قریشی نے کہا کہ اگر سعودی عرب نے کوئی بات کرنی ہے تو وہ اپنے سفیر، خصوصی ایلچی یا پھر دفتر خارجہ کے ذریعے کریں گے اور ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر رحمان ملک کا سعودی عرب جانا اور ملاقاتیں کرنا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ فرئینڈز آف پاکستان کے اجلاس میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ان کے بقول فرینڈز آف ڈیموٹیک پاکستان کے اجلاس میں پاکستان نے کوئی پیسے نہیں مانگنے بلکہ اس کا مقصد سفارتی تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی میرینز کی اسلام آباد میں بڑی تعداد میں تعیناتی میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر میرینز کی تعداد میں اضافہ ہوتا بھی ہے تو یہ تعداد آٹھ سے پندرہ ہوجائے گی لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد میں میرینز کو تعینات کیا جا رہا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا دیرنیہ دوست ہے اور اگر امریکی سفارتخانے کی توسیع پر چین کو کوئی تشویش ہوئی تو اسے دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکی میزائل میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اس بارے میں وزارت خارجہ کے ترجمان کا موقف سامنے آ چکا ہے۔