خیبر ایجنسی میں ایک سو اکاون ہلاک

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بہت سے معصوم لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بہت سے معصوم لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام نے دعوی کیا ہے کہ پچھلے ایک ہفتہ سے جاری فوجی آپریشن میں ایک سو اکاون 151 مبینہ شدت پسند ہلاک اور سو کے قریب گرفتار کئے گئے ہیں جبکہ شدت پسندوں کے درجنوں مکانات اور مراکز کو بھی تباہ کیا جاچکا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے باڑہ سب ڈویژن کے علاقوں سپاہ تیراہ میں مبینہ شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے مراکز پر تازہ حملے کئے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ اس کاروائی میں گیارہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سپاہ قمبر خیل میں کاروائی کرتے ہوئے مشتبہ عسکریت پسندوں کے دو کارخانے، دو مراکز اور گیارہ مکانات کو تباہ کردیا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ تباہ کئے جانیوالے مکانات میں لشکر اسلام کے کمانڈروں کے گھر بھی شامل ہیں۔

پولیٹکل اہلکار کا مزید کہا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری کاروائیوں میں اب تک ایک سو اکاون مشتبہ شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ سو سے زآئد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے آکاخیل کے علاقے میں لشکر اسلام کے ترجمان زرخان آفریدی کے مکان کو بھی مسمار کردیا ہے۔ تاہم مقامی طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ادھر دوسری طرف آپریشن کی وجہ سے باڑہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر کو بھی حکام کی جانب سے دن تین سے شام چھ بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی اور اس دوران کئی خاندانوں نے علاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب راونہ ہوئے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق فوجی کاروائیوں کے باعث اب تک ہزاروں گھر بار چھوڑ کر پشاور اور دیگر قریبی علاقوں کی جانب منتقل ہوئے ہیں۔

ادھر قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ نے تحصیلدار باڑہ سے ملاقات کی ہے جس میں حکومت نے آپریشن بند کرانے کےلیے عمائدین کو اپنی شرائط پیش کردی ہے جن میں حکومت کو مختلف جرائم میں مطلوب اٹسٹھ افراد کی حوالگی، باڑہ بازار میں اسلحہ اور منشیات پر پابندی اور چند دیگر شرائط شامل ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں اس سے قبل بھی کئی بار کارروائیاں کی گئی ہیں اور ہر بار حکومت نے کارروائی کے خاتمے کے اعلان کے وقت دعویٰ کیا کہ خیبر ایجنسی سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد شدت پسند تنظمیں دوبارہ منظر عام پر آ کر اپنی عملداری قائم کر لیتی ہیں۔ حکومت بظاہر ان تنظیموں کو مکمل طورپر ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔