باڑہ آپریشن:سینکڑوں افراد کی نقل مکانی

فائل فوٹو ( پاکستانی فوج)
،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے اس سے قبل بھی متعدد بار کارروائی کی ہے

حکام نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری تازہ کارروائیوں میں شدت پسندوں کے پندرہ مراکز ، تربیتی سینٹرز اور مکانات کو تباہ کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

دوسری جانب خیبر ایجنسی کے مقامی صحافیوں اور لوگوں کے مطابق اتوار کے روز حکام کی جانب سے کرفیو میں نرمی کے دوران سینکڑوں افراد نے علاقے سے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو چھٹے روز بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مبینہ شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے خلاف باڑہ سب ڈویژن کی حدود میں تازہ کارروائیاں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ملک دین خیل، سپاہ اور شلوبر کے علاقوں میں لشکر اسلام کے دو مبینہ ٹریننگ سینٹرز، پندرہ کے قریب مراکز اور کمانڈروں کے مکانات کو تباہ کردیا ہے۔ان کے مطابق کارروائیوں میں نو شدت پسندوں کو گرفتار جبکہ ایک کو ہلاک کیا گیا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ باڑہ میں دوسرے روز بھی چار سے لیکر شام سات بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی۔ مقامی لوگوں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ کرفیو میں نرمی کے دوران سینکڑوں لوگوں نےعلاقہ چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے۔

خیال رہے کہ سکیورٹی فورسز نے پانچ دن پہلے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے ملک دین خیل، سپاہ، شلوبر، آکاخیل اور آس پاس کے علاقوں میں مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

حکام نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری کارروائی کے دوران اب تک ستاسی مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک اور ایک سو سات مشکوک افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک اور گرفتار ہونے والوں میں بعض بے گناہ شہری بھی شامل ہیں۔

خیبر ایجنسی میں اس سے قبل بھی کئی بار کارروائیاں کی گئی ہیں اور ہر بار حکومت نے کارروائی کے خاتمے کے اعلان کے وقت دعویٰ کیا کہ خیبر ایجنسی سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد شدت پسند تنظمیں دوبارہ منظر عام پر آ کر اپنی عملداری قائم کر لیتی ہیں۔ حکومت بظاہر ان تنظیموں کو مکمل طورپر ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔