’امریکہ میں پاک ہند ملاقات ہوگی‘

شاہ محمود قریشی(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشن’پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس لیے وہ خطے میں امن اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں‘
    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکاری سطح پر بات چیت ہوگی۔

انہوں نے اپنے آبائی شہر ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نیویارک میں پاکستان اور بھارت کے حکام کے درمیان بات چیت کے سلسلہ میں پہلے دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ تبادلہ خیال کریں گے جس کے بعد وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات ہوگی۔

انہوں نےامید کا اظہار کیا کہ امریکہ میں ہونے والی ملاقات سود مند ہوگی کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ ملاقات میں بھارت کو لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور پاکستان کے مثبت اقدامات کے جواب میں بھارت کو مثبت قدم اٹھانا چاہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور اگر بھارت اس غلط فہمی میں ہے کہ صرف پاکستان آگے بڑھتا جائے گا اور وہ لچک نہیں دکھائیں گے تو بات آگے نہیں چلے گی۔

انہوں واضح کیا کہ اگر بھارت کی کوئی غلط فہمی ہے تو اس کو دور کریں گے البتہ جہاں دو ٹوک بات کرنی ہے وہاں کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ بھارت سے بات چیت کے سلسلہ میں کشمیری قیادت سے مشاورت کی گئی ہے۔ ان کے بقول اس مشاورت میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکی قیادت کے علاوہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی قیادت کے نمائندے موجود تھے اور ان کو اعتماد میں لے کر حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس لیے وہ خطے میں امن اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی وقت میں دو محاذوں پر توجہ دینا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، اس لیے مغربی محاذ پر توجہ دینے کے لیے ضروری ہے کہ مشرقی محاذ پر جتنا امن ہوگا اتنی زیادہ توجہ مغربی محاذ پر دی جاسکتی ہے اور بقول ان کے یہ بات جذباتی نہیں بلکہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔

ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں بلیک واٹر نامی کوئی تنظیم کام نہیں کر رہی اور نہ ہی سعودی عرب کو زرعی اراضی لیز پر دینے کا کوئی معاہدہ ہوا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سابق وزیر اعظم نے کارپوریٹ زراعت کی تجویز دی تھی اور ان کی اسی تجویز کے تحت سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک نے زرعی اراضی لیز پر لینے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

وزیر خارجہ کے بقول نہ توکسی نے زمین لیز پر دی اور نہ ہی کسی نے لیز پر زمین لی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ میں پاکستان سیفر حسین حقانی کی طرف سے لکھا جانے والا کوئی خط ان کی نظر میں نہیں آیا اور اگر ایسا کوئی خط سیکرٹری خارجہ کو لکھا گیا ہے تو اس کا جائزہ لیا جائے گا اور ویزوں کے معاملے پر مل بیٹھ کر حل کرلیں گے۔

ایک دیگر سوال پر انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان سے جو غیر ملکی گرفتار کیے گئے ہیں ان سے تفتیش ہو رہی ہے اور جب تک تفتیشن مکمل نہیں ہوتی اس وقت تک کوئی بات کہنا قبل از وقت ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ فرینڈز آف پاکستان کا فورم دوستوں میں اضافے کے لیے ہے پیسے اکٹھے کرنے کے لیے نہیں۔