’بھارت بتائےاسکی خواہش کیاہے‘

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے لیے واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں تو پھر شرمانا کیسا ، پاکستان اعتماد کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کو مذاکرات کا سلیقہ آتا ہے اب ہندوستان بتائے کہ اس کی کیا خواہش ہے۔
صحافیوں نے یہ سوال بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اس بیان پر کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے اس وقت ماحول سازگار نہیں ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ فی الوقت پاکستان کے ساتھ رشتے اتنے اچھے نہیں کہ اس کے ساتھ کسی بھی سطح کی بات چیت ہو سکے۔
شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ اگر دونوں ممالک مذاکرات نہیں کریں گے تو ان کی منزل کیا ہوگی اور شرم الشیخ میں جو وعدے اور دعوے کیے گئے تھے وہ کیا تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگر بھارت کا یہ کہنا ہے کہ حملوں کا خطرہ ہے تو انھیں بتایا جائے اور اطلاعات فراہم کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان بالکل احساس کمتری کا شکار نہیں ہے ، لیکن جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور جنگ دونوں ممالک کے لیے خود کشی ہو گی۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے شواہد دینے کے لیے کسی دباؤ میں ہے تو انھوں نے کہا کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے ، بھارت کی اپنی پالیسی ہے اور پاکستان کی اپنی حکمت عملی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو کسی اور مقام پر مذاکرات کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
شاہ محمود قریشی سنیچر کو ترکی کے دورے کے بعد پاکستان پہنچے ہیں ۔ انھوں نے اپنے ترکی کے دورے کی بارے میں کہا کہ یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا ہے جس میں فرینڈز آف پاکستان سے مذاکرات ہوئے ہیں اور انھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ وہ کشکول لے کر گئے تھے اور خالی ہاتھ واپس آئے ہیں بلکہ انھوں نے کہا کہ دورہ میل ملاپ کے لیے تھا۔
















