بی بی: مشرف سمیت چھ سے جواب طلبی

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے بینظیر بھٹو قتل کیس کے سلسلے میں سابق صدر پرویز مشرف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی اور وفاقی وزیر بابر اعوان سمیت چھ افراد سے جواب طلب کیا ہے۔
عدالت نے یہ حکم خود کو بینظیر بھٹو کا پروٹوکول افسر کہنے والے چوہدری محمد اسلم کی درخواست پر جاری کیا ہے۔ چوہدری اسلم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ سابق صدر پرویز مشرف کے علاوہ موجودہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان کے خلاف بھی درج کیا جائے۔
درخواست گزار نے جن دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے ان میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ، سابق وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز، انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ برگیڈئر (ر) اعجاز شاہ، وزرات داخلہ کے سابق سیکرٹری داخلہ کمال شاہ اور سینئر افسر برگیڈئر جاوید اقبال چیمہ کے علاوہ راولپنڈی کے سینئر پولیس افسران بھی شامل ہیں۔
جسٹس محمد اعجاز چوہدری پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی کے سنگل ممبر بنچ نے جب سماعت شروع کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک سمیت پولیس حکام نے اپنے جوابات داخل کرا دیے ہیں لیکن سابق صدر پرویز مشرف سمیت چھ افراد نے تاحال جواب داخل نہیں کیے۔
اس پر عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف، پرویز الہٰی، بابر اعوان، اعجاز شاہ، حامد نواز اور جاوید اقبال چیمہ کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت تک اپنا جواب داخل کریں۔ عدالت نے مزید سماعت نومبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔
علاوہ ازیں سابق وزیراعظم بینطیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم اقوام متحدہ کے تین رکنی کمیشن کی ایک اہم ٹیم پیر کو اسلام آباد پہنچی ہے۔ امکان ہے کہ یہ ٹیم اہم شخصیات سے ملاقات کرکے ان کے بیانات ریکارڈ کرے گی۔
اس بارے میں جب بینظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہید خان کے شوہر سینیٹر ڈاکٹر صفدر عباسی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے ان سے ملاقات کے لیے رابطہ کیا اور ایک دور وز میں وہ خود اپنی اہلیہ ناہید خان کے ہمراہ ٹیم سے مل کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق یہ ٹیم میاں نواز شریف، پرویز الہیٰ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل اور دیگر شخصیات سے بھی ملاقات کی خواہاں ہے۔ اطلاعات کے مطابق مخدوم امین فہیم، بابر اعوان اور بعض دیگر حکومتی شخصیات سے بھی ملے گی لیکن تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















