ممبئی حملے: بریت کی درخواستیں مسترد

زکی الرحمن لکھوی، فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنذکی الرحمن لکھوی بھی اب تک گرفتار کیے جانے والوں میں شامل ہیں۔
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں گرفتار سات ملزمان کی طرف سے اس مقدمے سے بریت کی درخواستیں مسترد کر دیں اور سرکاری وکیل سے کہا ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف مزید شواہد عدالت میں پیش کریں۔

انسداد دہشت گردی کے جج اکرم اعوان نے ملزمان کے وکلا کی طرف سے اس مقدمے میں اجمل قصاب کے مقدمے کی علیحدہ سماعت کرنے کے حوالے سے دائر درخواست بھی مسترد کردی۔

ملزم ذکی الرحمن لکھوی کے وکیل خواجہ سلطان کا کہنا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب حالات بہت بدل چکے ہیں اور ممبئی حملوں کے واحد ملزم اجمل قصاب، جن کے بیان کو بنیاد بنا کر اُن کے موکل پر فرد جُرم عائد کی گئی تھی وہ اپنے بیان سے منحرف ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک استغاثہ کی طرف سے کوئی بھی ناقابل تردید شہادت پیش نہیں کی گئی۔

ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار ہونے والے ساتوں ملزمان کے، جن میں ذکی الرحمن لکھوی، شاہد جمیل ریاض، حماد امین صادق، مظہر اقبال، جمیل احمد، عبدالواجد اور یونس انجم شامل ہیں، وکلا نے عدالت میں درخواستیں دائر کی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ کی طرف سے ایسے ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے گئے جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اُن کے موکل ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث ہیں۔

ملزم جمیل احمد کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے زندہ بچ جانے والے ملزم اجمل قصاب کے بیان کو بھی عدالت میں چیلنج کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ملزم کے بیان کی تصدیق شدہ کاپی عدالت کو موصول نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اکرم اعوان نے گُذشتہ برس پچیس نومبر کو ملزمان کے خلاف فرد جُرم عائد کی تھی جس کے بعد گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ بھارت کی طرف سے ممبئی حملوں کے بارے میں ہونے والی تفتیش کے بارے میں جو شواہد سامنے آئے ہیں اُن کے بارے میں پاکستان کو آخری مرتبہ گُذشتہ برس نومبر میں آگاہ کیا تھا۔

عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت سولہ جنوری تک ملتوی کر دی۔