امریکی اہلکاروں کے بدلتے تیور

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہولبروک پچھلے دنوں پاکستان کے دورے کے بعد جب افغانستان پہنچے تو وہاں پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ’ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ لوگ افغانستان میں کیا کر رہے ہیں۔ جب امریکہ کا مقصد القاعدہ کا خاتمہ ہے تو القاعدہ تو اس وقت پاکستان میں موجود ہے۔‘
رچرڈ ہولبروک کی سفارتی لب و لہجے میں ادا کیےگئے اس جملے میں پاکستانی حکومت کے لیے ایک پیغام بھی موجود ہے اورخطے میں امریکی مفادات کو درپیش خطرات میں پاکستانی سرزمین کے مبینہ استعمال کے بارے میں امریکہ کے خدشات بھی۔
اس قسم کے بیانات محض رچرڈ ہولبروک کی حد تک محدود نہیں بلکہ امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس سے لےکر پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن تک سبھی پاکستان کے قبائلی علاقے بالخصوص شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں کوئٹہ شوری کی مبینہ موجودگی پر مؤقف میں دن بدن سختی لا رہے ہیں۔
امریکی حکام کے ان سخت بیانات سے بظاہر معلوم ہورہا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھا کر شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کے مبینہ طور پر سرگرم ارکان کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے تو پاکستانی سرزمین پر اترنے سے قبل ہی یہ بات واضح کردی کہ ’وہ پاکستانی حکام پر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا دائرہ وسیع کرنے پر زور ڈالیں گے۔‘
شمالی وزیرستان میں القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک اور بلوچستان میں کوئٹہ شوری کے خاتمے پر سے متعلق معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں بظاہر اضافہ نظر آرہا ہے۔ خود پاکستان اس بات کےلیے تیار دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ حقانی نیٹ ورک، القاعدہ اور کوئٹہ شوری کا خاتمہ کردے جس کی شاید بنیادی وجوہات دہشتگردی کے نام پر امریکی امداد کو دوام دینا اور افغانستان میں انڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا راستہ روکنا ہے۔
لیکن شمالی وزیرستان میں القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوری یہ وہ دو اہم قوتیں ہیں جنہوں نے سرحد کے اس پار بیٹھ کر امریکہ، اتحادی اور افغان افواج کے ناک میں دم کردیا ہے۔ خوست میں سی آئی اے سینٹر پر اردنی نژاد ڈبل ایجنٹ کا خودکش حملہ اور پچھلے دنوں کابل میں انتہائی منظم اور مربوط حملے ایسے دو اہم واقعات ہیں جنہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
اسی لیے امریکہ بظاہر بیک وقت ’گاجر اور ڈنڈے ‘ کے مقولے پر عمل پیرا دکھائی دے رہا ہے۔امریکہ کی جانب سے دو بلین ڈالر کی امدای رقم روکنے کا عندیہ جب کہ دوسری طرف ہندوستان اور پاکستان کی تعلقات کی تناظر میں بیانات دینا اس کی ایک جھلک ہے۔
دو دن پہلے ایک امریکی تحقیقی ادارے’ کونسل آف فارن ریلیشنز‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان سے دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے ہندوستان پر مستقبل میں ایک بڑے حملے کا خطرہ ہے اور ہندوستان اس بار ہوئے حملے کے جواب میں فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رپورٹ کے ایک روز بعد امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کم وبیش وہی زبان استعمال کی جو رپورٹ میں استعمال کی گئی تھی کہ ممبئی پر حملے کے بعد ہندوستان نے ضبط و تحمل سے کام لیا تھا لیکن ’میرے خیال میں یہ ماننا نامناسب نہیں ہوگا کہ اگر مزید حملے ہوتے ہیں تو ہندوستان زیادہ صبر سے کام نہیں لے گا۔‘
پچھلے دنوں جب رچرڈ ہولبروک سے ایک صحافی نے پوچھا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے دورے کے ساتھ انڈیا کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کرنے کے غرض سے کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا’ کہ میں دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کے غرص سے نہیں بلکہ صورتحال سے متعلق انڈیا کی قیادت سے مشاورت کرنے جاتا ہوں۔‘
ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی طور پرانڈیا کو دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر راضی کر لیا جائے جس میں امریکہ ایک کلیدی کردا ادا کرسکتا ہے لیکن رچرڈ ہولبروک کے بیان سے یہی مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ انڈیا سے سے بات چیت کرنے کا نہیں کہتے بلکہ وہ صرف خطے سے متعلق امریکی پالیسوں کے بارے میں انڈیا کی قیادت سے’ مشاورت‘ کرتے رہتے ہیں۔
پاک انڈیا تعلقات کے تناظر میں امریکی حکام کے ان بیانات نے پاکستان کو بھی شاید سیخ پا کردیا ہے اور پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے امریکہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے واضح کردیا کہ’ پاکستان ایک سال تک قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا دائرہ کار بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘
اس بیان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ بیان پاکستان کی منتخب حکومت کی طرف سے نہیں بلکہ پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کیاگیا ہے جسے امریکہ پاکستان میں طاقت کا اصل سرچشمہ سمجھتا ہے اور اس کے بیانات کو قدرے سنجیدگی سے لیتا ہے۔






















