’خفیہ ایجنسیاں براہ راست گرفتار نہ کریں‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خفیہ ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ براہ راست کسی شخص کو گرفتار نہ کریں بلکہ اس ضمن میں قریبی تھانے کے اہلکاروں کی معاونت حاصل کریں۔
یہ ہدایات بدھ کو انہوں نے اسلام آباد کی رہائشی ساٹھ سالہ خاتون نجمہ ثناء کی گمشدگی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیں۔ مذکورہ خاتون کو خفیہ اداروں کے اہلکار چند روز قبل اُٹھا کر لے گئے تھے تاہم بعدازاں انھیں چھوڑ دیا گیا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اگر کسی شخص کے خلاف کوئی شکایت ہے تو آئینی حدود میں رہتے ہوئے اُس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ کلیم امام نے عدالت کو بتایا کہ مزکورہ خاتون کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے راولپنڈی میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میں چھ دسمبر سنہ دو ہزار نو کو اُٹھایا تھا تاہم بعدازاں اُنہیں رہا کردیا گیا۔
نجبمہ ثناء جو ایک دینی مدرسے میں معلمہ ہیں خود عدالت میں پیش ہوئیں اور کہا کہ خفیہ اور پولیس کے اہلکار نے انھیں ذہنی طور پر اتنے تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ اس بات پر راضی ہوگئیں تھیں کہ وہ امریکہ میں ہونے والے نائن الیون کے واقعہ میں بھی ملوث ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کی آزادی کو صلب کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔
افتخار محمد چوہدری نے آئی جی اسلام آباد سے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے دو ارکان کو سیشن جج کی عدالت میں پیش کریں جہاں پر اُن کا بیان قلمبند کیا جاسکے۔جماعت اسلامی نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کے اہلکار اُن کی جماعت کے دو کارکنوں کو اُٹھا کر لے گئے ہیں۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ وزارت داخلہ میں ایک علیحدہ ڈیسک بنایا جائے جہاں پر لاپتہ افراد کے بارے میں ان کے ورثاء کو آگاہ کیا جائے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ وزارت داخلہ میں جانے کی لیے اُن کی کئی جگہوں پر تلاشی لی جاتی ہے جبکہ عام آدمی کی رسائی کیسے ہوسکتی ہے۔
کراچی سے لاپتہ ہونے والے شخص مصطفیٰ اعظم کے مقدمے کی سماعت جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔ایف سی کے سربراہ کی عدالت میں غیر خاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں بیس جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















