’یہ کیسی جمہوریت ہے؟‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومت اور حکومتی اہلکاروں کی ناکامی کو کے بارے میں ججوں نے کئی ریمارکس دیے ہیں۔
بدھ کو سماعت کے دوران جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں ’یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں بنیادی انسانی حقوق کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔‘
جسٹس جاوید اقبال نے بدھ کے روز کراچی کے شہری مصطفیٰ اعظم کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام آدمی کے لیے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ملکی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور کسی نہ کسی کو اس نظام کو درست کرنے کے لیے مداخلت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ مداخلت کرے گی تو پھر واویلا مچ جائے گا کہ عدالت اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے۔
اٹرنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مصطفیٰ اعظم کو چند روز قبل رہا کردیا گیا تھا تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص کی گرفتاری کے شواہد تو سامنے آچکے ہیں لیکن اُن کی رہائی کی تصدیق ابھی باقی ہے اور اس لیے عدالت نے ایف سی کے سربراہ کو اور میجر ابراہیم نامی اہلکار کو بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں طلب کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مصطفیٰ اعظم کو چند ماہ پہلے اُٹھایا تھا لیکن بعد میں انھیں پشاور میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث قرار دیا گیا۔
اس اقدام کے خلاف مصطفیٰ اعظم کے ورثاء نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مصطفیٰ اعظم کو چند ماہ قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔
جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اگر پولیس اپنی کارکردگی دکھانے میں ناکام بھی ہوجائے تب بھی ایف سی کے پاس کسی شخص کو حراست میں رکھنے کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نام لیے بغیر کہا کہ جس کا جی چاہتا ہے وہ کسی کے گھر میں داخل ہوکر کسی کو اُٹھا کر لے جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں کسی بریگیڈئیر یا میجر کا نام آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے والے ہر شخص کے خلاف کارروائی ہوگی چاہیے وہ کتنا بااثر کیوں نہ ہو۔
بینچ میں شامل جسٹس راجہ فیاض نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کی طرف سے کارکردگی بہتر نہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ کو ایس ایچ او کا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔



















