’بلوچستان کا حل لاپتہ افراد سے جڑا ہے‘

پاکستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں
    • مصنف, حفیظ چاچڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

منگل کو سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا گیا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو گا جب تک کہ لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوتے۔

جسٹس جاوید اقبال نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

لا پتہ افراد سے متعلق اس مقدمے کی سماعت جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہی ہے۔

جسٹس جاوید اقبال کی کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اگر قانون سازی کی ضرورت ہے تو پارلیمنٹ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے اٹارنی جنرل انور منصور خان کو ہدایت کی کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے وزارت داخلہ اور دفاع کے سیکرٹری سمیت خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان سے معلومات طلب کریں۔ انہوں نے سکیورٹی اداروں کے حکام سے جواب طلب کیا کہ وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کروانے میں ناکام کیوں ہوئے ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کوئی ایجنسی ماورائے آئین نہیں ہے اور لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ تقریر ختم ہوتے ہی لاپتہ افراد اپنے گھروں میں پہنچ جائیں گے لیکن دروازے کھلے رہے اور کوئی نہیں آیا۔

انھوں نے کہا کہ ججوں نے جموریت کے لیے زیادہ قربانیاں دی ہیں، سکیورٹی ادارے اب ناکام ہو چکے ہیں اس لیے لوگوں کی نظریں اب سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ وزرارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ کے مطابق تاحال ایک سو باسٹھ افراد لاپتہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ ساری صورتحال ٹھیک نہیں ہوئی تو متعلقہ وزراء کو عدالت میں طلب کیا جا سکتا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس راجہ فیاض نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی کفالت کرے جبکہ بینچ کے دوسرے جج جسٹس سائر علی نے ریماکس میں کہا کہ لاپتہ افراد کا کیس این آر او سے بڑا کیس ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر ریمارکس میں جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ کراچی سے افغانستان کیسے پہنچیں اور اس کے ذمہ داروں کا تعین ہونا ضروری ہے۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کا الزام ہے کہ خفیہ ایجینسیوں کے اہلکاروں نے انہیں اٹھالیا ہے اور لاپتہ افراد کو کبھی بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ہے۔اکثر لاپتہ افراد کاتعلق صوبہ بلوچستان سے ہے جو سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں فوجی آپریشن کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔