ملک کی ٹویٹ،’ پابندی متنازع حصوں پر‘

رحمان ملک نے اپنے دوستوں کی آراء کے جواب میں لکھا ہے کہ فیس بیک اور یو ٹیوب پر پابندی حکومت نے نہیں لاہور ہائی کورٹ نے لگائی ہے پاکستان کے وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ بدھ کے روز وفاقی کابینہ نے اجلاس کے دوران ان کا یہ مشورہ قبول کیا ہے کہ فیس بک اور یو ٹیوب کے صرف متنازع حصوں پر پابندی عائد کی جائے۔

رحمان ملک نے یہ باتیں ٹوئٹر پر بدھ کے روز لکھی ہیں۔

پاکستان میں فیس بک پر عدالتی پابندی کے بعد پاکستان کے دیگر صارفین کی طرح انہیں بھی فیس بک تک رسائی حاصل نہیں رہی ہے۔

رحمان ملک نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے مشورے سے ٹوئٹر کا رخ کیا ہے۔انہوں نے حال ہی میں اپنا اکاؤنٹ کھولا ہے مگر کئی لوگ معلوم کر رہے ہیں کہ وہ اصلی رحمان ملک ہیں یا ان کا جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا ہے۔

رحمان ملک کو ٹوئٹر پر تین سو پچپن لوگ فالو کر رہے ہیں جبکہ وہ صرف دو لوگوں کو فالو کر رہے ہیں جن میں آصف علی زرادری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری اور پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر شامل ہیں۔

رحمان ملک نے اپنے دوستوں کی آراء کے جواب میں لکھا ہے کہ فیس بک اور یو ٹیوب پر پابندی حکومت پاکستان نے نہیں لگائی ہے بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے لگائی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ ہفتے سماجی تعلقات کی مقبول ویب سائٹ فیس بک پر عدالتی حکم کے بعد پابندی عائد کردی گئی تھی۔عدالت میں وکلاء کے ایک گروپ نے پٹیشن دائر کی تھی کہ فیس بک کے بعض حصوں پر پیغمبر اسلام کے تصویری خاکے بنانے کا مقابلہ توہین آمیز ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد حکومت پاکستان نے فیس بک کے ساتھ ساتھ یوٹیوب اور وکی پیڈیا سمیت بہت سی دیگر ویب سائٹ پر پابندی عائد کردی تھی۔جبکہ ملک کی مذہبی جماعتوں نے فیس بک پر پابندی کی حمایت میں جلوس نکالے اور مظاہرے کیے۔