فیس بک، ’کینیڈین قانون کی خلاف ورزی‘

ایک رپورٹ کے مطابق سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ، فیس بک، صارفین کی نجی معلومات کو غیر معینہ مدت تک اپنے پاس رکھ کر کینیڈین قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
کینیڈا کے رازداری سے متعلق ایک کمیشن کی تحقیقات کے مطابق امریکہ میں قائم ویب سائٹ نے صارفین کو مبہم اور غیر مکمل معلومات فراہم کی ہیں۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کی رازداری کی حفاظت کرنا چاہتی ہے مگر ساتھ ہی ویب سائٹ پر ان کے تجربہ پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں چاہتی۔
بیس کروڑ سے زیادہ افراد فیس بک کو باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں جن میں سے ایک کروڑ بیس لاکھ کینیڈا میں ہیں۔
کینیڈین پرائویسی کمیشنر، جینیفر سٹوڈرٹ نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ وہ مانتی ہیں کہ فیس بک کے نزدیک صارفین کی نجی معلومات کی حفاظت ایک اہم معاملہ ہے، پھر بھی بعض جگہ سقم موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی صارف کے اپنا اکاؤنٹ بند کر دینے کے بعد بھی ان کی ذاتی معلومات کو اپنے پاس رکھنے کی فیس بک کی پالیسی کینیڈا کے رازداری سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔
مذکورہ قانون صارفین کی نجی معلومات کو اس وقت تک رکھنے کی اجازت دیتا ہے جب تک ان کا اکاؤنٹ جاری ہو۔
اپنے ردعمل میں فیس بک کے چیف پرائویسی آفیسر کرِس کیلی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے کمیشن کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







