لاہور: خود کش دھماکوں میں سینتیس افراد ہلاک

لاہور میں مصروف داتا دربار کے قریب ہونے والے دو خود کش بم دھماکوں میں سینتیس سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو ستر زخمی ہوئے ہیں۔
لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔
<link type="page"><caption> داتا دربار: ہمارے نامہ نگار نے کیا دیکھا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/07/100701_data_eyewitness.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> مزاروں، گدی نشینوں پر حملے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/07/100701_mazar_attacks.shtml" platform="highweb"/></link>
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دربار کے باہر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بھی کچھ دیر تک جاری رہا اور پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے وقفے وقفے سے فائرنگ کر تی رہی۔
لاہور کے ڈی سی او سجاد بھٹہ کے مطابق یہ بم دھماکے خود کش حملوں کا نتیجہ ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ لاہور میں کسی دربار کو نشانہ بنایا گیا ہو۔
اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار علیم مقبول کے مطابق جمعرات کی شام کو لاکھوں زائرین ملک کے مختلف علاقوں سے داتا دربار پر حاضری کے لیے لاہور آتے ہیں اور جس وقت یہ دھماکے ہوئے اس وقت بھی زائرین کی ایک بڑی تعداد دربار کے اندر اور اس کے اطراف میں موجود تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستانی پولیس اس بات پر اطمینان کا اظہار کر رہی تھی کہ پورے مہینے کے دوران ملک کے کسی علاقے میں کوئی خود کش حملہ نہیں ہوا تھا اور گزشتہ دو سالوں کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ ایسا ہوا ہو۔
نامہ نگار نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ دو خود کش بمباروں نے خود کو دربار کے مختلف حصوں میں دھماکے سے اڑایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک دھماکہ دربار کے تہہ خانے میں واقع لنگر خانے میں ہوا جبکہ دوسرے خود کش بمبار نے خود کو مزار سے تیس فٹ کے فاصلے پر اڑایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش جیکٹوں میں زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانے کے لیے بال بیرنگ بھرے گئے تھے۔
یاد رہے کہ لاہور میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران کئی شدت پسند حملے ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
گزشتہ سنیچر کو لاہور کے ہال روڈ کے علاقے میں کم شدت کے دو دھماکے ہوئے تھے جن کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔
مئی کے اواخر میں لاہور کے علاقے گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاؤن میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں میں بیاسی سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اسی سال تیرہ مارچ کو لاہور کے آر اے بازار علاقے میں ہونے والے دو خود کش حملوں میں چون افراد ہلاک ہوئے تھے۔
گزشتہ سال دسمبر میں مون مارکیٹ میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں پینتالیس افراد ہلاک اور ایک سو چالیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔




















