’اینڈیور‘ بالآخر خلا کے لیے روانہ

امریکہ کے خلائی ادارے ناسا خلائی شٹل اینڈیور کو چھٹی کوشش کے نتیجے میں خلا کے لیے بھیجنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
اس سے پہلے جب بھی شٹل کو فلوریڈا کے خلائی مرکز کینیڈی سے روانہ کرنے کی کوشش کی گئی تو خراب موسم یا شٹل سے فیول کے اخراج کی وجہ سے اس کی روانگی منسوخ کرنا پڑی۔
خیال رہے کہ اگر اینڈیور جمعرات کو خلائی مشن پر روانہ نہیں ہوتی تو اس کے لیے جاری ماہ کے آخر میں اس وقت تک انتظار کرنا پڑتا جب تک کہ روس کا ایک خلائی کارگو شپ روانہ نہ ہو جاتا۔
اینڈیور میں سوار خلا نورد بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر گیارہ روز تک قیام کریں گے اور اس دوران وہ جاپانی تحقیقاتی تجربہ گاہ کی نوک پلک سنوارنے کا کام مکمل کریں گے۔
اینڈریو کو روانہ کرنے والے ڈائریکٹر پیٹ نیکولینو نے شٹل کے عملے سے کہا کہ’ آخر موسم نے ہمارا ساتھ دیا اور اب ہم روانگی کے لیے تیار ہیں‘ ۔ شٹل میں موجود مشن کے سربراہ نے اس موقع پر کہا کہ ہم ایک عظیم مشن پر سب کو ساتھ لے کر جانے کو تیار ہیں ۔
اینڈیور میں سات خلا نورد سوار ہیں جن میں سے چھ امریکی اور ایک کینڈین خاتون ہیں جو خلا میں شٹل کے مشینی بازوؤں کو کنٹرول کریں گی۔
شٹل جمعہ کو خلائی سٹیشن پر پہنچے گی جس کے بعد وہاں عملے کی تعداد تیرہ تک پہنچ جائے گی جو وہاں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہو گی۔
اس مشن کے دوران خلا نورد جاپانی تحقیقاتی تجربہ گاہ میں ایک پلیٹ فارم کا اضافہ کریں گے۔ اس کے علاوہ نئی بیٹریوں کی تنصیب کی جائے گی جن کا مقصد خلائی سٹیشن کو توانائی فراہم کرنا اور مرمت کے دیگر کاموں کے لیے استعمال کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عالمی خلائی سٹیشن کا حجم اس وقت چار کمروں کے گھر کے برابر ہو چکا ہے اور دس سال سے جاری اس کی تعمیر پر سولہ ممالک کے تعاون سے ایک سو ارب ڈالر کی لاگت آ چکی ہے۔
واضح رہے کہ اب تک ایک سو ستائیس خلائی گاڑیوں کو خلا میں روانہ کیا جا چکا ہے جن میں سے انتیس عالمی سٹیشن پر گئی ہیں جب کہ اینڈیور کا یہ تئیسواں مشن ہے۔






















