کہکشاؤں کی نئی حیرت انگیز تصاویر

ماہرِ فلکیات ہبل سپیس ٹیلیسکوپ (دوربین) سے زمین پر بھیجی جانے والی کہکشاؤں کی نئی تصاویر پر خوشیاں منا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گزشتہ مئی کو خلابازوں کا خلا میں جا کر ہبل دوربین کو ٹھیک کرنے کا مشن ایک بڑی کامیابی تھا۔
تازہ ترین تصاویر میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتی ہوئی کہکشاؤں سے لے کر تباہ ہوتے ہوئے ستاروں کی تصاویر شامل ہیں۔

ناسا کا کہنا ہے کہ مدار میں گھومتی ہوئی ہبل دوربین کو، جسے آج تک بنائے جانے والے سب سے اہم سائنسی آلات میں سے ایک کہا جاتا ہے، 2014 تک کام کرنا چاہیئے۔
مئی میں ہونے والا اٹلانٹیس مشن ہبل کو ٹھیک کرنے کا پانچواں اور آخری مشن کہا جاتا ہے۔
امریکی خلائی ایجنسی اور اس کے بین الاقوامی ساتھی اب اپنی کوششوں کو اجرامِ فلکی کا مطالعہ کرنے والی ایک بڑی اور زیادہ کارآمد رصدگاہ پر مرکوز کر رہے ہیں۔ اس رصد گاہ کو جیمز ویب سپیس ٹیلیسکوپ کہا جا رہا ہے۔
نئی تصاویر میں کہکشاؤں کی خیرہ کن تصاویر ہیں جن میں کہکشائیں اکٹھی ہو رہی ہیں، ایک ستارہ اپنی اوپر کی تہہ کو چھوڑ رہا ہے جس میں گیس اور دھول شامل ہے، اسی طرح نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی بھی بہت صاف تصاویر شامل ہیں۔

امریکہ کے شہر بالٹیمور کے سپیس ٹیلیسکوپ سائنس انسٹیٹیوٹ کی سائنسدان ڈاکٹر ہیدی ہیمل کہتی ہیں کہ ’ہبل ایکشن میں واپس آ گئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ناسا اور ہبل نے کائنات کے نئے مناظر وا کر دیے ہیں۔
ناسا کے چیف سائنسدان ایڈ ویلر کا کہنا ہے کہ ’ہم میں سے زیادہ تر انسان مادی طور پر کبھی بھی ان عجیب و غریب جگہوں پر نہیں پہنچ سکیں گے، جن کو ہم نے ان تصاویر میں دیکھا ہے۔۔۔ ہبل نے جو کام کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے ہمارے دلوں، دماغوں، اور روحوں کو نظامِ شمسی میں سفر کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ ان جگہوں پر بھی جو اربوں شمسی سال دور ہیں اور جہاں سے تقریباً وقت شروع ہوتا ہے۔۔۔‘







