بچے جسمانی ورزش سے دور

برطانوی تنظیم برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق ساٹھ منٹ کی تجویز کردہ جسمانی ورزش آٹھ میں سے صرف ایک ہی بچہ کرتا ہے۔
جولائی اور اگست میں کیے گئے ایک سروے میں آٹھ سے پندرہ سال کی عمر تک کے ایک ہزار بچے شامل تھے۔ سروے سے حاصل کردہ نتائج کے مطابق ایک تہائی بچے ایک ہفتے میں ساٹھ منٹ سے کم جسمانی ورزش کرتے ہیں جبکہ بیس فیصد بچوں کا خیال ہے کہ اگر موٹاپا ہو تو جسمانی ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔
محققین کے مطابق جسمانی ورزش کی کمی اور کم توانائی کی حامل خوراک کھانے سے بچوں میں صحت کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ تحقیق میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو دو ہزار پچاس تک دو تہائی بچوں کا وزن زیادہ یا وہ موٹاپے کا شکار ہو جائیں گے۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے گیارہ سال سے تیرہ سال کے ان بچوں کے لیے ایک مہم شروع کی ہے جو موٹاپے کا شکار ہیں۔
’فوڈ فار تھاٹس‘ نامی مہم میں بچوں کو جسمانی ورزش کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ان کی موجودہ خوراک کے ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں بتایا جائے گا۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر مائک نیپٹن کے مطابق ’ہمارے بچوں کی ایک نسل جوان ہو رہی ہے لیکن پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان میں جسمانی ورزش اور صحت مند رہنے کا رجحان نہیں ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اب جسمانی ورزش کی عادت اپنائیں۔‘
سابق اولمپک چیمپئین سیلی گونیل جو اس مہم میں شریک ہیں کے مطابق بچوں میں جسمانی ورزش کے حوالے سے پایا جانے والا رویہ پریشانی کا باعث ہے۔ لیکن برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے بچوں کو دوبارہ سے صحت مند بنانے کی جانب راغب کرنے کی مہم حوصلہ افزاء ہے۔


















