سمندری مونگے بچنا تقریباً ناممکن

سمندری مونگوں کو بچانے کے امکانات اتنے کم ہو گئے ہیں کہ اب ان کے نمونے فریزر میں محفوظ کیے جا رہے ہیں۔
ڈینمارک میں ایک مذاکرے کے دوران شواہد پیش کیے گئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ماحول کو بچانے کے لیے اگر کسی سخت ضابطے پر اتفاق رائے ہو بھی جائے تو سمندری مونگوں کا بچنا اب مشکل ہے۔
سائنسدانوں نے اس صورتحال میں تجویز دی کہ مونگوں کی مختلف اقسام کے نمونوں کو مائع نائٹروجن میں محفوظ کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جب دنیا کا درجہ حرارت جب قابو میں آ جائے گا تو انہیں سمندر میں دوبارہ متعارف کروا دیا جائے گا۔
دنیا کے اقتصادی طور پر سولہ بڑے ممالک کے قانون ساز اداروں کے ارکان ڈینمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں جمع ہیں جہاں وہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔
ان کے سامنے ایک اہم مسئلہ سمندری مونگوں کو بچانے کا ہے جو ویسے تو سمندر کی تہہ کے ایک فیصد کا بھی چوتھائی حصہ ہیں لیکن ماحول میں ان کا کردار بہت اہم ہے۔
سمندری مونگے دنیا کے تقریباً پچاس کروڑ افراد کو متاثر کرتے ہیں جن کے لیے یہ روزگار اور خوراک کا ذریعہ ہیں۔ یہ ساحلوں کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔



