سینکڑوں مظاہرین رہا، اہم ملاقاتیں

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں پولیس نے بتایا کہ انہوں نے موسمی تبدیلیوں پر جاری بین الاقوامی اجلاس کے موقع پر سنیچر کو گرفتار کیے جانے والے سینکڑوں مظاہرین میں سے تقریباً سبھی کو رہا کردیا ہے۔
ان لوگوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب لوگوں کی کی ایک بڑی تعداد نے کوپن ہیگن میں موسمی تبدیلی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے کے مطالبے کے حق میں مارچ کیا اور اس مارچ میں مظاہرین نے املاک کی توڑ پھوڑ بھی کی۔پولیس نے مظاہرین کی تعداد تیس ہزار بتائی تھی جبکہ مظاہرے کے منتظمین کے مطابق لاکھوں لوگ ان کے ساتھ تھے۔ اس قسم کے جلوس دنیا کے مختلف شہروں میں بھی نکالے گئے تھے۔
<link type="page"><caption> ماحول بچانے کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2009/12/091212_climate_pics.shtml" platform="highweb"/></link>
دوسری طرف اجلاس میں شریک وزراء موسم میں تبدیلی کے عمل سے نمٹنے کے لیے عالمی معاہدے کے حتمی مسودے کی تیارے کے لیے اتوار کو ملاقات کر رہے ہیں۔
وزراء کی کوشش ہے کہ اگلے ہفتے باضابطہ مذاکرات سے پہلے متنازعہ نکات پر کچھ پیشرفت ہو جائے، جن میں ترقی پذیر ممالک کے لیے امدادی رقم اور ماحول کے لیے نقصاندہ گیسوں کے اخراج میں کمی کے اہداف کا تعین شامل ہیں۔
مجوزہ دستاویزات میں دو ہزار پچاس تک خطرناک گیسوں کے اخراج پر پچاس فیصد قابو پانے کی ہدایت کی جائے گی، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو پہلے سے زیادہ حصہ ڈالنا ہو گا یعنی انہیں دو ہزار بیس تک کاربن گیسوں کے اخراج میں کم سے کم پچیس فیصد کمی کرنا ہو گی۔ کوپن ہیگن کانفرنس کی میزبان اور ڈنمارک کی وزیر کانی ہیج گارڈ نے تسلیم کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر مجوزہ دستاوایزات کا متن تاحال جامع شکل اختیار نہیں کر سکا۔
یورپی یونین نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو ساڑھے دس ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جو دو ہزار بارہ تک تین اقساط میں ادا کی جائے گی۔لیکن کچھ امدادی تنظیموں نے اعلان کردہ رقم کو ناکافی قرار دیا ہے۔
سنیچر کو مظاہرین چھ کلومیٹر تک مارچ کر کے اس جگہ پہنچے تھے جہاں تمام وزراء اور مذاکرات کار مل رہے ہیں۔ اس مظاہرے میں ہنگامہ آرائی کے بعد جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ ٹی وی پر دکھایا گیا کہ پولیس گرفتار کیے گئے افراد کو سڑک کے کنارے بٹھا رہے تھے اور ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ ان افراد کو بعد میں بسوں میں بھر کر وہاں سے لے جایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوپن ہیگن پولیس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک چھوٹے سے گروہ نے ہنگامہ آرائی کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ ’ہمارے خیال میں اگر ہم ان کو گرفتار نہ کرتے تو وہ بہت زیادہ نقصان کر سکتے تھے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کی عمارت کے شیشے بھی توڑے ہیں۔‘
انہوں نے ان خبروں کی تردید کی کہ گرفتار کیے گئے چند افراد کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔
تائیوان یونیورسٹی کی اٹھائیس سالہ طلبہ لِن نے رائٹرز کو بتایا ’یہی صحیح وقت ہے شور کرنے کا اور ان سربراہان کو باور کرانے کا کہ موسمی تبدیلی ایک سنگین مسئلہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ ہماری آواز ضرور سنیں گے۔‘




















