ڈنمارک: ’یورپی امداد مضحکہ خیز ہے‘

ترقی پذیر ممالک اور امدادی تنظیموں نے یورپی یونین کی جانب سے عالمی حدت پر قابو پانے کے لیے ساڑھے دس ارب ڈالر کی امداد کا مذاق اڑایا ہے۔
یورپی یونین نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو ساڑھے دس ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جو دو ہزار بارہ تک تین اقساط میں ادا کی جائے گی۔ یورپی یونین کی یہ امداد عالمی پیکج کا حصہ ہے جس پر ڈانمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔
لیکن ترقی پذیر ممالک سند کچھ امدادی تنظیموں نے یورپی یونین کی طرف سے اعلان کردہ رقم کو ناکافی قرار دیا ہے۔
جی 77 کے اور چین نمائندے لوممبا کا کہنا ہے ’یورپی یونین کے سربراہان یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مسئلہ ہے ہی نہیں۔ ان کی اعلان کردہ امداد ناکافی ہے۔‘ چین کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ترقی یافتہ ممالک کے لیے قلیل مدت کے لیے امداد کا اعلان کرنا آسان ہے جیسے کہ تین سال کے لیے۔ لیکن تین سال کے بعد ہم کیا کریں گے۔‘
اس سے قبل موسمی تبدیلیوں پر ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں جاری بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء نے اس مسئلے کے ممکنہ حل کے لیے تجاویز کا ابتدائی متن تیار کر لیا ہے جس کے تحت دو ہزار پچاس تک عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں کم سے کم پچاس فیصد کمی کی جائے گی۔
دنیا بھر سے آئے ہوئے ماحولیاتی امور کے وزراء آئندہ دو دنوں کے دوران ان تجاویز پر بحث کریں گے۔
کوپن ہیگن میں مذاکرات کاروں کی طرف سے پیش کیے گئے متن میں اہم بات یہ ہے کہ اس میں سے واحد بین الاقوامی معاہدے کی بجائے دو دستاویزات اخذ کی جائیں گی۔ ایک دستاویز میں طویل مدتی مشترکہ کوششوں کا خاکہ جاری کیا جائے گا جبکہ دوسری دستاویز ماحولیاتی تبدیلیوں کے متعلق پرانے معاہدے کیوٹو پروٹوکول میں ترامیم پر مشتمل ہو گی۔
ماحولیاتی تبدیلیوں پر واحد معاہدے کا قیام امیر ممالک جبکہ کیوٹو پروٹوکول کی نئی ترمیم شدہ شکل ترقی پذیر ممالک کا مطالبہ ہے۔ ان دونوں دستاویزات کے بیشتر مندرجات پر عمل کرنا لازم نہیں ہو گا یعنی ایسے اقدامات کو محدود کرنے کا معاہدہ وجود میں نہیں آئے گا جن سے طویل مدتی بنیادوں پر عالمی حدت کو دو ڈگری سیلسیس تک کم کیا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مجوزہ دستاویزات میں دو ہزار پچاس تک خطرناک گیسوں کے اخراج پر پچاس فیصد قابو پانے کی ہدایت کی جائے گی، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو پہلے سے زیادہ حصہ ڈالنا ہو گا یعنی انہیں دو ہزار بیس تک کاربن گیسوں کے اخراج میں کم سے کم پچیس فیصد کمی کرنا ہو گی۔ کوپن ہیگن کانفرنس کی میزبان اور ڈنمارک کی وزیر کانی ہیج گارڈ نے تسلیم کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر مجوزہ دستاوایزات کا متن تاحال جامع شکل اختیار نہیں کر سکا۔
’ہم پہلے کی نسبت آگے بڑھے ہیں لیکن یہ بات درست ہے کہ جتنا کام ہونا چاہیے، اتنا ہم نہیں کر سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے محض ایک متن تیار کیا ہے جو مذاکرات کے لیے کھلا ہے۔ یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمیں علم ہے کہ یہ ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن پھر بھی ہم نے اگلے ہفتے کے لیے وہ سب اس متن میں رکھا ہے جو ہمیں سائنس بتاتی ہے۔‘





















