گوگل، فیس بک وغیرہ پرٹیکس!

سارکوزی(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنسارکوزی نے ڈیجیٹل معاملات پر سخت موقف اختیار کیا ہے

فرانس کی حکومت گوگل، فیس بک اور دیگر انٹرنیٹ فرموں پر ٹیکس عائد کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

فرانسیسی حکومت کے کہنے پر تیار کی گئی ایک رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ گوگل، یاہو اور فیس بک جیسی انٹرنیٹ فرموں کو آن لائن آپریشن سے ہونی والی آمدن پر ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کو کتابیں، فلمیں اور موسیقی انٹرنیٹ پر خریدنے کی بجائے انہیں حاصل کرنے کے متبادل قانونی طریقے تلاش کرنے پر صرف ہو گی۔

فرانس کے صدر نکولس سارکوزی نے انٹرنیٹ پر میسر مواد کو کسی ضابطے کے تحت لانے کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ فرانس نے انٹرنیٹ سے غیر قانونی طور پر مواد حاصل کرنے کے خلاف سخت قوانین منظور کیے ہیں۔

فرانس نے گوگل کے کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے کے منصوبے کے مقابلے پر سات سو ملین پاؤنڈ کی لاگت سے ایک ڈیجیٹل لائبریری بنانے کا اعلان کیا ہے۔

فرانس میں ایک ایسے قانون پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت صارفین کو انٹرنیٹ پر موجود اپنے بارے میں معلومات کو حذف کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔

انٹرنیٹ فرموں پر ٹیکس لگانے کی تجویز ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس پر کیسے عمل ہو گا۔گوگل نے اس منصوبے کی مخِالفت کی ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر اشتہاروں پر اضافی ٹیکس لگانے سے تخلیقی پیشرفت متاثر ہو گی۔