چاند پر واپس جانے کا پروگرام منسوخ

امریکہ کے صدر براک اوباما نے مالی وجوہات کی بناء پر انسانوں کو دوبارہ چاند پر لے جانے کا امریکی منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔
’دی کانسٹلیشن‘ منصوبے کے تحت نئے راکٹ اور عملے کو چاند پر پہنچانے والا نیا جہاز بنا کر سن دوہزار بیس میں خلاء بازوں کو ایک بارپھرچاند پراتاراجاناتھا۔
صدر اوباما نے پیر کو سن دو ہزار گیارہ کے لیے بجٹ تجاویز میں اس منصوبے کو مہنگا قرار دیا اور کہا کہ یہ وقت سے بھی بہت پیچھے چل رہا ہے۔
امریکی خلائی ادارہ ناسا منصوبہ پر اب تک نو ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ صدر نے کہا کہ ’کانسٹلیشن‘ کی وجہ سے ناسا کے دیگر منصوبوں کے لیے پیسے کم پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خلاء میں جانے کے لیے نجی شعبے کی شرکت چاہیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے سائنس اور ٹیکنالوجی پالیسی کے لیے چیف آف سٹاف نے کہا کہ ’ہم کانسٹلیشن کو ختم کرتے ہوئے اپنے عزائم کو ختم نہیں کر رہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس کو پیچھے کی طرف قدم لینا نہیں کہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پسپائی یہ ہوتی کہ ہم پرانی ٹیکنالوجی سے انسان کا چالیس سال پہلے والا چاند پر سفر پھر کرنے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی بنائی جائے جو کم وقت لے اور کم خرچ ہو۔
منسوخ کیا جانے والا پروگرام امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے سن دو ہزار تین میں خلائی جہاز کولمبیا کے تباہ ہونے کے بعد شروع کیا تھا۔
پروگرام کا مقصد انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے جانے کے لیے نئے راکٹ تیار کرنا تھا لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ضروری رقم نہیں رکھی گئی اور تکنیکی مسائل کی وجہ سے یہ مقررہ وقت سے بھی پیچھے چل رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















