خلائی چٹان کے دھماکے کے شواہد

اس تحقیقی رپورٹ کی تفصیلات ٹیکساس میں ایک اہم سا‎ئنس کانفرنس میں پیش کی گئی ہے ایک نئی تحقیقق میں انٹارٹکا میں ہزاروں برس قبل ایک بڑے خلائی چٹان (’سپیس راک‘) کے دھماکے کے شواہد ملے ہیں جس کا ملبہ دور دراز تک پھیل گیا تھا۔

سیارتی چٹان کے دھماکے کے شواہد انٹارٹکا کی برف کے اوپر جمی ہوئی خلائی گرد و غبار اور چھوٹے چھوٹے پتھروں کے تجزیے سے ملے ہی۔

اس تحقیقی رپورٹ کی تفصیلات امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک اہم سا‎ئنس کانفرنس میں پیش کی گئی ہے ۔

ہزاروں برس پہلے کا یہ واقعہ 1908 کے تونگوسکا کے واقعے سے ملتا جلتا ہے جس میں کسی سیارے کے چٹا کے دھماکے سے سائبیریا کا جنگلاتی علاقہ زمین دوز ہو گیا تھا ۔

اس طرح کے دھماکے میں خلائی چٹان زمین پرگرنے سے پہلے اوپر کی زمین کے مدار میں دھماکے سے پھٹ جاتی ہے ۔

گرد و غبار اور پتھریلی بجریاں انٹارٹکا کے دو مختلف ‏علاقوں سے جمع کی گئی ہیں ۔ تجزیےسے پتہ چلتا ہے کہ یہ چار لاکھ اکیاسی ہزار برس پرانی ہیں ۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ سے پیدا ہوئي ہیں۔

انٹارٹکا کے ان دونوں مقامات کے درمیان 2900 کلو میٹر کا فاصلہ ہے لہذا اتنے بڑے خطے پرخلائی ملبے کے پھیلنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ملبہ خلائی پتھروں کے زمین سے ٹکرانے سے نہیں بلکہ فضا میں دھماکے سے پھیلے تھے۔

سائنسدانون کے اندازے کے مطابق یہ فضائی دھماکہ جس چٹان سے ممکن ہوا ہوگا وہ کم ازکم ایک لاکھ ٹن کی رہی ہو گی۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ جس طرح کے فضائی دھماکے کا واقعہ سو برس قبل سائیبیریا میں پیش آیا تھا وہ زمین پر پانچ سو سے ایک ہزار برس میں رونما ہوتا رہتا ہے۔