شہابیے کی سطح پر برفیلے پانی کا انکشاف
امریکی سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ ایک شہابیے کی سطح پر برفیلے پانی کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے۔
24 تھیمیس نامی یہ شہابیہ ایک بہت بڑی چٹان ہے جو سورج سے چار سو اسّی کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ایسے شہابیوں پر پائے جانے والے ماحول میں برف کی موجودگی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اسے شہابیے کے اندر سے مدد مل رہی ہو۔
انہوں نے نیچر نامی جریدے کو بتایا ہے کہ اس دریافت سے ان خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ زمین پر موجود سمندروں میں سے زیادہ تر پانی خلاء سے آیا ہے۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف سنٹرل فلوریڈا کے پروفیسر ہمبرلاو کیمپنز کا کہنا ہے ’یہ دلچسپ بات ہے کہ ہمیں کسی شہابیے پر برف کی موجودگی کا پتہ چلا ہے کیونکہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ زمین پر موجود پانی سیارے کے ابتدائی دنوں میں بہت سے شہابیوں کے زمین پر اثر کا نتیجہ ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ایک شہابیے کی سطح پر برفیلے پانی کی نشاندہی اس خیال کی توثیق کرتی ہے‘۔
تھیمس 24 کا قطر دو سو کلومیٹر ہے اور یہ شہابیوں کی مرکزی بیلٹ کے سب سے بڑے شہابیوں میں سے ایک ہے۔

















