کرۂ ارض کی محافظ مقناطیسیت

سائنسدان ارضی مقناطیسیت کی موجودگی کے ابتدائی زمانے کو مزید ڈھائی سو ملین سال پیچھے لے جانے کے قابل ہو گئے ہیں۔
سائنسدانوں کو یہ کامیابی جنوبی افریقہ کے باربرٹن پہاڑی سلسلے میں موجود قدیم کیلسائٹ چٹانوں میں پائی جانے والی دھاتی معدنیات سے ملنے والے آثار کے تجزیوں سے حاصل ہوئی ہے۔
تین ارب پینتالیس کروڑ سال قدیم ان معدنیات سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ اس زمانے میں موجود ارضی مقناطیسیت آج کے زمانے کے مقابلے میں کہیں کم قوت کی حامل تھی۔
یہ مقاطیسی قوت کرۂ ارض پر موجود تمام حیات کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے۔
یہ مقنا طیسی قوت ہماری دنیا کے گرد ایک ایسی حفاظتی ڈھال بناتی ہے جو سورج سے آنے والے نقصان دہ ذروں کو واپس لوٹا دیتی ہے اور ہماری فضا کے لیے ان ’شمسی آندھیوں‘ کی نقصان دہ صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔
یہ تمام انکشافات ویانا ارضی سائنس پر ہونے والے ایک اہم اجلاس سامنے آئے ہیں جس میں امریکہ کی یونیورسٹی آف روچسٹر کے پروفیسر جان ٹارڈینو اور ان کے ساتھیوں کی نئی تحقیقات پر بحث کی گئی۔
یورپی جیوسائنسز یونین کے اس اجلاس کے شرکا کو پروفیسر ٹارڈینو نے بتایا کہ ’ہمارے لیے ارضی مقناطیسیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تین ارب پینتالیس کروڑ سال پہلے کا زمانہ انتہائی نازک تھا یہ وہ دور تھا جب ہم نے پہلی بار زندگی کے عبوری آثار دیکھنا شروع کیے اور غالباً اسی لیے ان دو چیزوں کا باہمی تعلق ہے‘۔
روچسٹر یونیورسٹی کی اس ٹیم نے وہ تکنیک دریافت کی ہے جس کے ذریعے ان چھوٹے چھوٹے معدنیاتی ذروں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے جو آتش فشانی چٹانوں کے بلوروں یا کرسٹلز میں پھنس جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ معدنیاتی ذرّے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ارضی مقناطیسیت کی مناسبت سے آتش فشانی سیال مادہ پانچ سو اسّی سینٹی گریڈ درجہ حرارت سے بھی نیچے کسی مقام پر ٹھہر جاتا ہے۔
برابرٹن سے لیے جانے والے نمونے اس بات کا انکشاف کرتے ہیں کہ آج کرۂ ارض کے گرد موجود حفاظتی ڈھال کے مقابلے میں ابتدائی حیات کے زمانے میں موجود حفاظتی ڈھال کہیں کمزور تھی۔























