فیس بُک: صارفین کی معلومات غیر محفوظ؟

،تصویر کا ذریعہAP
انٹرنیٹ سکیورٹی کمپنی سیمانٹیک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فیس بُک کے ہزاروں صارفین کی معلومات غیر محفوظ تھیں اوران کے لِیک ہو نے کا خدشہ ہے۔
سیمانٹیک کے مطابق ایسا اس لیے ہوا ہے کی اس پروگرام کے دیگر ایپلیکیشن میں یہ نقص تھا کہ کئی ’ایکسیز ٹوکن‘ یعنی ’چابیاں‘ بن جاتی تھیں جن تک اشتہار کی کمپنیوں کو رسائی حاصل ہوتی۔
سیمانٹیک کا کہنا ہے کہ یہ ’چابیاں‘ صارفین کی اجازت کے بغیر بن جاتی تھیں اور اس سے پھر فیس بُک پر دیگر اپلیکیشن چلانے میں آسانی ہوتی۔
سیمانٹیک کے ایک ماہر نِشانت دوشی نے بتایا ہے کہ ان ’چابیوں‘ کی مدد سے مختلف کمپنیوں کو فیس بُک صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی ہو جاتی تھی اور وہ نہ صرف صارفین کے فیس بُک صفحہ کو دیکھ سکتے بلکہ اس پر لکھ بھی سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا اندازہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ہزاروں صارفین کی معلومات اس طرح سے لِیک ہوئی ہیں۔‘
تاہم انہوں نے یہ بھی کہاں کہ ’خوش قسمتی سے بہت سے ایڈورٹائزرز کو اس کا علم نہیں تھا۔‘
فیس بُک کے اہلکار کیوِن پرڈی نے سیمانٹیک کے اس بیان سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی نے اس کی انکوائری کروائی ہے اور انہیں اس طرح کا کوئی مسئلہ نہیں نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں کہ صارفین کی معلومات غیر منظور شدہ کمپنیوں کے ہاتھ آئیں ہوں۔
اب فیس بُک کی تمام نئی ایپلیکشن میں OAuth 2.0 کا استعمال لازمی ہوگا۔ فیس بُک ایپلیکشن بنانے والوں کو یکم ستمبر تک کی محلت دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







