اینڈیور آخری خلائی سفر پر روانہ

اینڈیور

امریکی خلائی شٹل اینڈریو اپنے آخری مشن پر بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

شٹل اینڈریو کو کینیڈی سپیس سینٹر سے پیر کو روانہ کیا گیا اور اس منظر کو دیکھنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔

اس سے پہلے خلائی گاڑی کے کے پچھلے سرے میں واقع ہیٹر کے نظام میں خرابی کو دور کر دیا گیا تھا۔

اس خرابی کی وجہ سے خلائی گاڑی کی روانگی کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

اینڈیور کا یہ آخری خلائی مشن ہو گا اور واپسی پر لاس اینجلس میں عجائب گھر کی زینت بنے گی۔

خلائی گاڑی بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر دو ارب ڈالر مالیت کی مشین پارٹیکل فزکس یا ایلفا میگنیٹک سپیکٹرومیٹر مشین’اے ایم سی‘ لے کر جا رہی ہے۔

سولہ ممالک نے اس مشین کی تیاری میں حصہ لیا ہے۔

اس کے علاوہ خلائی سٹیشن کے اہم اضافی پرزوں کی ایک ٹرے پہنچائی جائے گی۔

روانگی سے پہلےخلائی شٹل کے کمانڈر مارک کیلی کا کہنا تھا کہ’جب میں نے سال دو ہزار ایک میں خلائی جہاز کو اڑایا تھا، یہ میرے دل کے بہت قریب ہے، اب مجھے اس کو آخری مشن پر لیجانے پر بہت خوشی ہے۔‘

’اینڈریو خلائی بیٹرے کا بچہ ہے اور گزشتہ انیس سال سے سروس میں ہے، اب اس کے پچیسویں مشن پر ریٹائرمنٹ ایک اچھا نمبر ہے۔‘

ناسا نے خلائی جہاز کے چودہ روزہ مشن کو بڑھا کر سولہ روز کے لیے کر دیا ہے تاکہ کوئی کام ادھورا نہ رہ جائے۔‘

اینڈیور کی خلائی مشن سے واپسی پر امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی بیڑے میں شامل تین میں سے صرف ایک خلائی شٹل ایٹلانٹس بچ جائے گی۔

ایٹلانٹس کو رواں سال جولائی میں کسی وقت آخری مشن پر روانہ کیا جائے گا۔

امریکی شٹل پروگرام کے تیس سال مکمل ہونے کے بعد امریکہ خلائی سٹیشن پر سپلائیز کے لیے روسی خلائی کیپسول کا استعمال کرے گا۔