خلاء میں سانس لینا ممکن ہو سکتا ہے

مالیکیول خلاء کے خطے ’کانسٹلیشن آف اورئن‘ میں دریافت کیے گئے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمالیکیول خلاء کے خطے ’کانسٹلیشن آف اورئن‘ میں دریافت کیے گئے

ماہر فلکیات نے ایک لمبے عرصے تک کی جانے والی کوششوں اور تحقیقات کے بعد بلآخر خلاء میں سالمی یعنی مالیکیولر آکسیجن دریافت کر لی ہے۔

حالانکہ اس سے پہلے بھی خلاء میں آکسیجن کے ایٹم تلاش کیے جا چکے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ماہر فلکیات نے مالیکیولر آکسیجن دریافت کی ہے۔

واضع رہے کہ مالیکیولر آکسیجن کی وجہ سے ہم سانس لیتے ہیں۔

آکسیجن کی دریافت کے حوالے سے کی گئی یہ تحقیق آسٹروفزیکل جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

ہرشل سپیس نامی ٹیلی سکوپ سے دریافت کیے گئے مالیکیول خلاء کے ایک ایسے خطے میں پائے گئے جسے ماہر فلکیات ’ کانسٹلیشن آف اورئن‘ کہتے ہیں۔

ہائيڈروجن اور ہیلیم کے بعد آکسیجن کائنات میں سب سے زیادہ مقدار میں پائے جانے والا عنصر ہے۔

آکسیجن کی مالیکیولر یعنی دو ایٹموں کی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی صورت ہی کی وجہ سے زمین پر زندگی قائم و دائم ہے۔

لیکن یہ پہلی بار ہے کہ مالیکیولر آکسیجن خلاء میں پائی گئی ہے۔

ہرشل آکسیجن منصوبے کے محقق پال گولڈ سمتھ کا کہنا ہے ’اگرچہ ہم مالیکیولر آکسیجن دریافت کر پائے ہیں لیکن دریافت کیے جانے والے اس آکسیجن کی مقدار بہت کم ہے اور ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ خلاء میں جس جگہ یہ پائی گئی ہے وہاں کیا خاص بات ہے۔‘

انھوں نے کہا ’کائنات میں بہت کچھ ہم سے اب بھی پوشیدہ ہے۔‘