’جاب ویل ڈن‘ ڈسکوری کا دور ختم

فائل فوٹو، ڈسکوری
،تصویر کا کیپشنسنہ انیس سو چوراسی سے اب تک ڈسکوری نے اڑتیس خلائی مشن کیے ہیں اور اس دوران اُس نے تئیس کروڑ کلومیٹر فاصلہ طے کیا

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر بارہ روز طویل مشن مکمل کرنے کے ساتھ ہی امریکہ کے سب سے پرانے خلائی جہاز ڈسکوری کا ستائیس سال پر محیط شاندار دور بھی ختم ہو گیا ہے۔

اپنے آخری مشن کے اختتام پرڈسکوری کینیڈی خلائی سٹیشن پر بعد دوپہر اتری۔

ڈسکوری اس آخری مشن کے بعد واشگنٹن کے مشہور زمانے عجائب گھر سمتھ سوئن کی زینت بن جائے گی۔

ناسا کے دو اور دوبارہ استعمال کے قابل خلائی جہاز بھی آنے والے مہینوں میں ڈسکوری کی طرح ریٹائر کر دیئے جائیں گے۔

اپنے آخری مشن پر ڈسکوری نے ایک سٹور روم اور ایک انتہائی جدید ہیومنائڈ روبوٹ خلائی سٹیشن پر پہنچایا۔

جہاز پر موجود عملے نے ان بارہ دنوں میں دو مرتبہ خلاء میں چہل قدمی بھی کی جس کا مقصد خلائی سٹیشن کے بیرونی حصہ پر کچھ مرمت کا کام کرنا تھا۔

ڈسکوری کے کمانڈر سٹیو لنڈسے نے ٹیکساس میں مشن کنٹرول روم کو اپنے آخری پیغام میں کہا ’ہوسٹن ڈسکوری کے آخری مرتبہ پہیے رکے ہیں۔‘

ہوسٹن میں کیپسول کمیونیکیٹر چارلی ہوباگ نے جوابی پیغام میں کہا ’جاب ویل ڈن۔‘

اسی دوران ناسا ایک دوسرے خلائی مشن پر خلائی جہاز اینڈیور کو بھیجنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ چند گھنٹوں بعد کینیڈی کے وسیع وہیکل اسمبلی بلڈنگ سے اینڈیور کو خلائی پیڈ پر لے جایا جائے گا جہاں سے وہ بھی اپنے آخری خلائی مشن پر اگلے ماہ روانہ ہو گا۔

اس کے بعد ایٹلانٹس خلائی جہاز بھی اس سال جون میں اپنے آخری مشن پر روانہ ہو گا۔

ناسا کے خلائی جہازوں کو ریٹائر کرنے کے بعد امریکی خلاء باز روس کے سویوز راکٹوں کے ذریعے خلاء میں جایا کریں گے۔ اگلی دہائی کے نصف تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس وقت تک امریکہ کی نجی خلائی کمپنیاں بھی خلاء میں پروازیں بھیجنے کے قابل ہو جائیں گی۔