لندن فساد:’علاقہ میدانِ جنگ لگ رہا تھا‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برطانوی دارالحکومت لندن کے فسادات کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صورتحال ایک ڈراؤنے خواب کی طرح تھی اور میدان جنگ کا منظر لگ رہا تھا۔
جنوبی لندن کے ایک رہائشی جون ایڈرلے کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت بس پر سوار تھے جب علاقے میں فسادات شروع ہوئے، ان سے آگے والی نشست پر بیٹھا ہوا ایک شخص اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بلند آواز میں کہا کہ’پیکھم میں آگ لگی ہوئی ہے‘۔
’ہر ایک نے بس سے نیچے اترنے کے لیے دوڑ لگا دی، جیسے ہی میں بس سے نیچے اترا تو میں نے دیکھا کہ کئی لڑکیاں ایک لڑکے کو مار رہی تھیں اور مجھے نہیں پتہ کہ آیا اس نے ان لڑکیوں کی تذلیل کی تھی یا کچھ اور ہوا تھا، اور دیگر کچھ لڑکے ان کی مدد کو پہنچ رہے تھے، ہر کوئی غصے اور ہیجان میں مبتلا تھا۔‘
جون نے مزید کہا کہ’جب لوگوں پر اینٹوں اور لکڑیوں کے ٹکڑوں سے حملے ہونا شروع ہو گئے تو انھوں نے وہاں سے نکل جانا مناسب سمجھا۔‘
’وہاں پر ایک بس کو نذرِ آتش کر دیا گیا اور اس سے دھوئیں کے سیاہ بادل بلند ہو رہے تھے، لوگ اس جگہ سے دور بھاگ رہے تھے اور ہر کوئی خوفزدہ لگ رہا تھا اور لوگوں کے اشتعال میں اضافہ ہو رہا تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر کوئی خوفزدہ تھا، اگر حوفزدہ نہیں تھا تو کم از کم ڈر لازمی محسوس کر رہا تھا۔ میں نے سڑک پر چلنا شروع کیا تو لوگ کہہ رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے؟ مجھے حیرانی ہوئی کہ یہ پیکھم میں ہوا ہے کیونکہ یہاں پر کمیونٹی کے تعلقات کافی اچھے تھے۔‘
پیکھم میں فسادات میں پھنس جانے والے دیگر افراد نے کہا کہ’ انھیں اپنی زندگیوں کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا اور لوگوں نے ہنگامی سروس کو فون کر کے نکلنے کی کوشش کی اور اس دوران پولیس جب ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کرتی تو ان پر آتشی مواد پھینکا جاتا۔‘
پیکھم کی رہائشی اکیس سالہ طالب علم جوزففین تھامس کا کہنا ہے کہ’ آپ نہیں جانتے ہیں کہ اگر آپ پولیس سے خوفزدہ ہوں یا جب لوگ اس طرح سے کر رہے ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ فسادات میں حصہ لینے والے کچھ افراد کا تعلق ان کے علاقے سے نہیں تھا اور وہ’ یہاں صرف صورتحال خراب کرنے کے لیے آئے تھے۔‘
ایسٹ ڈلوچ کے جیک نے صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ’ وہ اور دیگر مسافر بس میں سوار تھے کہ ایک بڑے گروپ سے ان کا سامنا ہوا۔‘
’میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو وہاں پر ایک گروپ ایک بڑے کوڑے دان کو ہمارے بس کی جانب لا رہا تھا، یہ بس کی ایک جانب ٹکرا اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔‘
’اس وقت بس میں کچھ لوگ اشکبار تھے۔ڈرائیور بس کا دروازہ نہیں کھولنا چاہتا تھا تاہم کچھ لوگوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ دورازہ کھولے تاکہ وہ باہر نکل سکیں۔‘
جیک کے مطابق جس وقت وہ بس سے باہر نکلے تو قریب میں ہی ایک اور بس کو آگ لگی ہوئی تھی، اور اس جگہ پر موٹر سائیکل ہیلمٹ اور ماسک پہنیں، بدامنی پیدا کرنے والے کئی لوگ جمع تھے۔
’وہ چیزوں کو توڑ پھوڑ رہے تھے اور کوڑے دان سڑکوں پر پھینک رہے تھے اور قہقے لگا رہے تھے۔‘
اس دوران علاقے کے ایک ٹیچر میتھو یوولینڈ کا کہنا تھا کہ’یہاں پر کافی عرصے سے کشیدگی تھی، بچے خوش نہیں تھے اور وہ پولیس سے نفرت کرتے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بچوں کے لیے اپنا غصہ نکالنے کے لیے صرف یہ ہی راستہ تھا، علاقے میں بہت سارے لوگ تھے اور پولیس کی نفری ناکافی تھی۔‘
ہیکنی کی ایک رہائشی کیتھرین ہلمس کا کہنا ہے کہ’ وسطی ہیکنی میں عام احساسات یہ تھے کہ بلامقصد فسادات میں ہماری کمیونٹی کو نقصان پہنچے گا اور یہ متاثر ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ہیکنی کی ایک رہائشی فلیپا تھامس کا کہنا ہے کہ علاقے میں لوٹ مار کرنے والوں سے بات چیت کی تو انھوں نے اپنے رویے کی صرف ایک ہی وجہ بتائی کہ ان کے پاس کوئی رقم نہیں تھی۔‘
’یہ تصور کرنا قابل افسوس ہے کہ لوگ صرف اگلے لمحے کے لیے سوچ رہے ہیں اور یہ صورتحال جو انھوں نے پیدا کی ہے وہ ڈراؤنا خواب ہے۔ اب وہ چھوٹے علاقوں کی جانب بڑھ رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس صبح ہماری کمیونٹی متحد ہو کر ان فسادات کے خلاف کھڑی ہو گی۔‘
ایلنگ کے رہائشی انتیس سالہ کرسٹین پوٹس کا کہنا ہےکہ’ وہ علاقے میں گاڑی چلا رہی تھیں کہ اس وقت گڑ بڑ دیکھی، علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا اور میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی ہے۔‘
’پچیس سے تیس کے قریب ماسک پہنے ہوئے نوجوانوں نے اینٹوں کی مدد سے گل فروش کی ایک دکان میں توڑ پھوڑ شروع کر دی، یہ ایک چھوٹا سا کاروبار تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP






















